چین کے شمالی صوبہ شانشی میں بایوٹیکنالوجی فیکٹری میں دھماکا، 8 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
چین کی ریاستی میڈیا کے مطابق ہفتے کی صبح شمالی چین کے شہر شوویانگ میں واقع ایک بایوٹیکنالوجی کمپنی میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔
اس دھماکے کی جگہ پہاڑی علاقے میں واقع ورکشاپ تھی، جہاں سے گہرا زرد دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ فیکٹری کی قانونی نمائندہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حادثے کے بعد شہر میں تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی قائم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
ریسرچ کے مطابق مذکورہ کمپنی جون 2025 میں قائم ہوئی تھی اور یہ جانوروں کے فیڈ، کوئلے کی مصنوعات، تعمیراتی مواد اور پینٹ کی تیاری میں سرگرم ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔
اب تک دھماکے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی ہے، تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ مقامی حکام نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور متاثرہ علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بایوٹیکنالوجی چین فیکٹری کمپنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔