پراکسی جنگ، فنڈنگ اور عالمی خاموشی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور حملے کا ماسٹر مائنڈ ہماری حراست میں ہے، انھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کی ساری فنڈنگ بھارت کر رہا ہے، میں دعویٰ کر رہا ہوں کہ ایک دن دنیا کا ہر ملک بولے گا کہ ان کو کون اسپانسر کر رہا ہے۔
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کے اثرات صرف کسی ایک واقعے یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ذہنی، سماجی اور نفسیاتی طور پر جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش حملہ محض ایک دہشت ناک سانحہ نہیں بلکہ ایک بڑے، منظم اور خطرناک منصوبے کی کڑی ہے، جس کے تانے بانے سرحدوں سے ماورا جا کر جڑتے ہیں۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر سامنے لے آیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ اب کسی وقتی ابال یا داخلی بدامنی کا نتیجہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک مسلسل جنگ ہے جس میں بیرونی سرپرستی، مقامی سہولت کاری، مالی معاونت اور عالمی بے حسی سب شامل ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات نے کئی ابہامات دورکیے ہیں اور ساتھ ہی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، حملہ آورکی تربیت وہیں کی گئی اور اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو چکا ہے، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
یہ حقیقت اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب اس کے ساتھ مقامی سہولت کاروں کی گرفتاری اور ان کے کردار کا انکشاف سامنے آتا ہے۔ دہشت گردی صرف بارود اور خودکش جیکٹ کا نام نہیں، یہ معلومات، رہائش، نقل و حرکت، مالی معاونت اور خاموش تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی اور یہی وہ مقامی سہولت کاری ہے جو ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
مقامی سہولت کار دراصل دشمن کی وہ آنکھیں اورکان ہوتے ہیں جو اندر سے نظام کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ یہ افراد اکثر نظریاتی شدت پسندی سے زیادہ مالی مفادات کے اسیر ہوتے ہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد پیسوں کے لیے کام کر رہے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی اب ایک منافع بخش کاروبارکی صورت اختیارکرچکی ہے۔ جب ریاست کے اندر موجود لوگ چند ڈالروں کے عوض اپنے ہی ملک، اپنے ہی ہم وطنوں اور اپنے ہی مستقبل کے خلاف کھڑے ہوجائیں تو یہ محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک گہرا سماجی بحران بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونٹی انٹیلی جنس کی ضرورت پر زور دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ جب تک معاشرہ خود چوکس نہ ہو، اس جنگ کو مکمل طور پر نہیں جیتا جا سکتا۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے خطرناک پہلو وہ ہے جس کی طرف وزیر داخلہ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں اشارہ کیا۔ دہشت گرد تنظیموں کی مالی سرپرستی اور فنڈنگ۔ ان کے مطابق داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی فنڈنگ بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے، انھیں اہداف فراہم کیے جاتے ہیں، ڈالرز میں رقوم دی جاتی ہیں اور ان کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ کسی جذباتی رد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ زمینی حقائق، انٹیلی جنس معلومات اور واقعات کے تسلسل سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردی کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں اور جب کسی تنظیم کے بجٹ میں تین گنا اضافہ ہو جائے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے اورکیوں آ رہا ہے۔
بلوچستان میں بی ایل اے کی سرگرمیاں اس گٹھ جوڑ کی ایک واضح مثال ہیں۔ حملوں سے قبل ویڈیوز جاری ہونا، بعد ازاں ان کا بھارتی میڈیا پر نمایاں طور پر چلایا جانا اور پھر ایک مخصوص بیانیے کے تحت پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنا، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک منظم انفارمیشن وار کا حصہ ہے جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کو داخلی طور پر کمزور دکھانا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں محض بندوق سے نہیں لڑتیں، وہ میڈیا، پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤکو بھی ہتھیارکے طور پر استعمال کرتی ہیں اور اس میدان میں بھارتی ریاستی اور غیر ریاستی عناصرکا کردار اب پوشیدہ نہیں رہا۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اس مسلسل دشمنی اور تصادم کی پالیسی پر خود بھارت کے اندر سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ ششی تھرورکا کالم اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں انھوں نے پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ اس پالیسی سے نہ تو بھارت کو کوئی سفارتی فائدہ ہوا اور نہ ہی خطے میں امن قائم ہو سکا، اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی سیاست میں بھی اب ایک سنجیدہ طبقہ اس سوچ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حقیقت اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ مسئلہ پاکستان کی پالیسی نہیں بلکہ بھارت کی ضد اور داخلی سیاست میں استعمال ہونے والا نفرت پر مبنی بیانیہ ہے۔ ششی تھرور کا یہ مؤقف کہ پاکستان سے مذاکرات کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے، جنوبی ایشیا کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔
ایک ایسا خطہ جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں، وہاں مستقل محاذ آرائی کسی بڑے المیے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی بھارتی کوششوں کا ناکام ہونا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب یکطرفہ بیانیے کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم اس کے باوجود، دہشت گردی کے معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی اور دہرا معیار ایک تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی طاقتیں اکثر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرتی ہیں، لیکن جب بات بھارت جیسے ملک کی آتی ہے تو یہ جنگ اصولوں کے بجائے مفادات کے تابع ہو جاتی ہے۔ اگر واقعی دنیا امن کی خواہاں ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بھارت کی جانب سے پراکسیز کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے خطرناک ہے۔ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتی، یہ سرحدیں عبور کرتی ہے، معیشتوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور آخرکار عالمی امن کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے دنیا کے طاقتور ممالک پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کو اس روش سے باز رکھنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کریں، نہ کہ محض رسمی بیانات پر اکتفا کریں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل تردید قربانیاں دی ہیں۔
ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، اور سماجی ڈھانچے کوگہرے زخم آئے۔ اس کے باوجود ریاست نے نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی کمر بھی توڑی۔ آج بھی جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو فوری کارروائیاں، نیٹ ورکس کی گرفتاری اور ماسٹر مائنڈزکا پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے چوکس اور فعال ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ اگر ایک دھماکا ہوتا ہے تو ننانوے روکے جا رہے ہوتے ہیں، ایک ایسی حقیقت ہے جو اکثر خبروں کی زینت نہیں بنتی، مگر اسی میں ریاستی صلاحیتوں کی اصل کہانی پوشیدہ ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو اپنی داخلی کمزوریوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ سیکیورٹی نظام کو اپ گریڈ کرنا، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ قائم کرنا اور سب سے بڑھ کر معاشرتی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف فکری مزاحمت کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں مٹتی، اس کے لیے تعلیم، معاشی مواقع، سماجی انصاف اور قانون کی بالادستی بھی ضروری ہے۔ جب تک ایسے حالات موجود رہیں گے جہاں لوگ آسانی سے پیسے کے عوض دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو جائیں، خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا۔اس ساری صورتحال میں عوام کا کردار سب سے اہم ہے۔ یہ جنگ کسی ایک فرقے، صوبے یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔
جب وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ جنگ میں کیٹگری نہیں بنتی، تو وہ اسی اجتماعی شعورکی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ دشمن کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا، خوفزدہ کرنا اورکمزور دکھانا ہے، اور اس کا جواب صرف قومی یکجہتی، ہوش مندی اور مستقل مزاحمت ہو سکتا ہے۔آخرکار، پاکستان کو ایک طرف اپنی داخلی صفوں کو مزید مضبوط کرنا ہو گا اور دوسری طرف عالمی سطح پر ایک مربوط، مدلل اور مسلسل سفارتی مہم کے ذریعے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ اگر عالمی برادری واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے اس خطے میں اصل آگ لگانے والوں کو روکنا ہو گا، کیونکہ دہشت گردی کی یہ آگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی اور اگر اسے روکا نہ گیا تو اس کی لپیٹ میں بالآخر سب ہی آ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے مقامی سہولت وزیر داخلہ پاکستان کو کرنا ہو گا کی جانب سے نہیں بلکہ کر رہا ہے بھارت کی ہوتے ہیں کہ بھارت ہیں اور کے خلاف کسی ایک اس بات کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔