افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں‘ فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹر نگ ڈ یسک )جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے افغان پالیسی اور خارجہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں، اگر دہشت گرد آرہے تو ان کو ماردیں کس نے روکا ہے۔راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ8فروری کو دو سال پہلے اسی دن ملک میں مرکزی انتخابات ہوئے جو نتیجہ سامنے آیا اس کو مسترد کردیا گیا اور جعلی قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج جو حکومت کررہے ہیں جعلی مینڈیٹ پر حکومت کررہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے اپوزیشن میں ہیں، اگر ہمارا تعلق جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے یہ تاثر غلط ہے بلکہ یہ سفر کا حصہ ہوتا ہے منزل پر پہنچنے کا نام ہوتا ہے، حکومت آج بھی ہے بنائی نہیں گئی بلکہ کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے، ہماری جنگ کہ آئین کے ساتھ ہے کہ کسی اور سے لیکن قوم کسی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو اس کا احترام ہے لیکن یہاں کس طرح جھرلو پھیرا گیا، الیکشن کمیشن کو چلینج کرتا ہوں الیکشن کمیشن کو ایک حلقے کا بھی نتیجہ معلوم نہیں تھا باہر سے آتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کٹ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، جمعیت علمائے اسلام الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ حقائق پر بات کرتی ہے، ہماری روش میں اعتدال اور دلیل ہے، اس بنیاد پر قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پر کیا گزری غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری، تین سال ہوگئے ان پر آگ کی بارش ہو رہی ہے شہر کے شہر مٹ گئے، 70 ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، ایک لاکھ سے زائد لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے، ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ہوگیا جو صہیونی روش جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی، بم اور ڈالر ان کے ہیں، دنیا اس کو نسل کشی کہتی ہے اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرم کو نوبل انعام ملنا چاہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج وہی ٹرمپ غزہ کے لیے امن کا پلان لایا، یورپی ممالک حصہ نہیں بن رہے ہیں، امن بورڈ کے اندر نیتن یاہو شامل ہے، انسانیت کا قتل مسلمانوں کا قاتل وہ بھی بورڈ میں ہو تو ایسے بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک کہتا ہے اقوام متحدہ میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو اسمبلی میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا گیا اور آج آپ بورڈ میں اس کا کردار مان رہے ہیں، شہباز شریف کاغذ پر دستخط کرتے ہیں تو ہنس کر دکھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین کی دوستی بارے کیا کیا کچھ کہتے ہیں اور اس نے ہم پر اعتماد کیا ہے، عالمی تجارتی شاہراہ کے لیے پاکستان کو چنا، ان کو بھی شکایت تھی ہمیں بھی تھی کہ عمران خان کی حکومت میں میگا پراجیکٹ روک دیے، آج ان سے بھی پوچھ لیں کہ کیا اس دور میں کوئی ایک اینٹ آگے لگی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ چین کی امید تھی کہ پی ڈی ایم کے لوگ آئیں گے تو بہتری ہوگی لیکن آج وہ پاکستان سے ناراض ہیں، یہ سمجھتے ہیں پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے بیڑا غرق کردیا۔افغانستان سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی سوال کرتا ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کر امارات اسلامیہ تک کیوں پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکے، کبھی سوچا ہے 78 سال سے افغان اور خارجہ پالیسی کیوں ناکام ہے، اگر وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں تو مارو، ایک انار وہاں سے نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مغربی سرحدوں پر کیا صورت حال ہے، ایک جرنیل آتا ہے اور کہتا ہے لڑنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے مذاکرات کرنے ہیں، پھر کوئی اور آئے گا تو دوسری پالیسی دے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں بھی مسجد میں نمازیوں کو تڑپایا گیا، مطلب یہ ہے کوئی حکومت نہیں آسکی کوئی رٹ نہیں، بیانیہ تیار کرنے والے ایسا بیانیہ تراشتے ہیں کہ کیا بات ہے، اچھے جملے ہمیں بولنے آتے ہیں جرات آپ سے زیادہ ہمارے پاس بھی ہے، آپ جرات دکھائیں تو سہی بھارت کے خلاف دکھائی قوم ساتھ کھڑی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے لوگ باہر جارہے ہیں، کئی سال سے اہم اشاریوں کی بات کرتے ہین لیکن اصل میں ہم نیچے جارہے ہیں خطے میں لوگ آگے ہیں، نہ اقتصاد بہتر ہے نہ امن اور ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہے، قانون سازی ہوتی تو اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے لگے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم ہوئی ایک مہینہ ایک ہفتہ مذاکرات کیے، ان کے نتیجے میں 34 شقوں سے باز کرایا اور ہم نے ترامیم شامل کی۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یکم جنوری 2028ء تک سود کا خاتمہ کرلیا جائے گا، کیا پیش رفت ہوئی حکومت کیا بتا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی ایک سفارش پر پارلیمان میں بحث نہیں ہوئی، ان نیتوں کے ساتھ آپ مذاکرات و آئین میں ترمیم کرتے ہیں تو کون آپ پر اعتماد کرے گا، سیاست میں سنجیدگی ہونی چاہیے، 27 ویں ترمیم آگئی، ایک سال کے اندر آپ کی اکثریت پوری ہوگئی یہ کہاں سے پوری ہوئی مطلب اراکین کے ہاتھ موڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت تاحیات کوئی مقدمہ درج نہ ہوسکے گا، آصف زرداری دوست ہے، خوش قسمتی سے صدر ہے، ان کو جیلوں میں کیونکر رکھا تھا اب وہ تاحیات استثنا لیں گے، نبی اکرم محمدؐ نے خود کو استثنا نہیں دیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 8 فروری الیکشن کے نتائج ہیں، اس حکمرانی کی شکل میں یہ سب کچھ سامنے آرہا ہے ، خارجہ پالیسی اقتصادی پالیسی ناکام ہر کام ناکام، آپ سمجھتے ہیں ہم آپ اس ناجائز کام میں ساتھ دیں گے بالکل بھی نہیں، ہاں اچھے کام میں ضرور ساتھ دیں گے لیکن وہ کرو تو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ا کے ساتھ کہتا ہے رہے ہیں نہیں ا
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔