پاکستان‘ ملائیشیا تعاون بڑھانے‘چیلنجز کیخلاف مربوط ردعمل پرمتفق
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور(آن لائن)پاکستان اور ملائیشیا کی بحری افواج کے سربراہوں نے تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ بحری ماحول میں تزویراتی نقطہ نظر کو ہم آہنگ کرنے ‘ آپریشنل تعاون بڑھانے اور ابھرتے ہوئے بحری سیکورٹی چیلنجز کیخلاف مربوط ردعمل پر اتفاق کیاہے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر بحری سلامتی کیلیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا اور رائل ملائیشین نیوی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی۔یہ دورہ پاک بحریہ کے تعاون پر مبنی بحری سیکورٹی اور بحری سفارت کاری کے عزم کا عکاس ہے۔ رائل ملائیشین نیوی ہیڈکوارٹرز آمد پر رائل ملائیشین نیوی کے سربراہ ایڈمرل تان سری (ڈاکٹر)ذوالحلمی بن اثنیننے سربراہ پاک بحریہ کا استقبال کیا۔رائل ملائیشین نیوی ہیڈکوارٹرز میں سر براہ پاک بحریہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔دونوں سربراہان نے ملاقات کے دوران تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ بحری ماحول میں تزویراتی نقطہ نظر کو ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں سربراہان نے آپریشنل تعاون بڑھانے اور ابھرتے ہوئے بحری سیکورٹی چیلنجز کے خلاف مربوط ردعمل پر اتفاق کیا۔نیول چیف نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک بحریہ کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر بحری سلامتی کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف ملائیشین ہم منصب تان سری ڈاکٹرذوالحلمی بن اثنین سے ملاقات کررہے ہیں
خبر ایجنسی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رائل ملائیشین نیوی کے سربراہ ایڈمرل پاک بحریہ کے
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔