کرکٹ، حوصلہ افزا آغاز، مگر تسلسل قوم کی توقع ہے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-04-3
ٹی 20 ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈ کے خلاف پاکستان کی تین وکٹوں سے کامیابی بلاشبہ ایک خوش آئند آغاز ہے۔ کولمبو میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے نے جہاں شائقین ِ کرکٹ کی دھڑکنیں تیز رکھیں، وہیں ٹیم پاکستان کے عزم، مزاحمت اور آخری لمحوں میں مقابلہ جیتنے کی صلاحیت کو بھی نمایاں کیا۔ فہیم اشرف کی جارحانہ اور ذمے دارانہ بیٹنگ نے ایک مشکل مرحلے پر ٹیم کو سہارا دیا اور فتح کو ممکن بنایا، جس پر وہ خصوصی داد کے مستحق ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار نظر آئی۔ اوپنرز سے لے کر مڈل آرڈر تک وکٹوں کا جلد گر جانا ایک تشویشناک پہلو ہے، خاص طور پر اس سطح کے عالمی ایونٹ میں جہاں معمولی لغزش بھی بھاری قیمت وصول کر سکتی ہے۔ بابر اعظم اور عثمان خان جیسے تجربہ کار بیٹرز کا جلد آؤٹ ہونا ٹیم مینجمنٹ اور بیٹنگ حکمتِ عملی پر سوالات ضرور اٹھاتا ہے۔ تاہم صاحبزادہ فرحان کی 46 رنز کی اننگ اور فہیم اشرف کی دلیرانہ بیٹنگ نے یہ ثابت کیا کہ ٹیم میں مشکل وقت میں کھڑے ہونے والے کھلاڑی موجود ہیں۔ بولنگ کے شعبے میں پاکستان کا کم بیک قابل ِ تحسین رہا۔ اسکاٹ ایڈورڈز اور دیگر ڈچ بیٹرز نے مزاحمت ضرور کی، مگر پاکستانی بولرز نے بروقت وکٹیں حاصل کر کے میچ کا رخ اپنے حق میں موڑ لیا۔ یہ کامیابی اگرچہ حوصلہ افزا ہے، مگر اسے منزل نہیں بلکہ ایک آغاز سمجھنا ہوگا۔ ٹی 20 ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں قوم کی توقعات صرف ابتدائی فتوحات تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ تسلسل، مستقل کارکردگی اور بڑے مقابلوں میں اعصاب کی مضبوطی اصل کسوٹی ہوتی ہے۔ ٹیم پاکستان کو بیٹنگ میں مزید ذمے داری، فیلڈنگ میں چستی اور مجموعی حکمت ِ عملی میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔