افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن طالبان کو دہشتگردی کے خاتمےکےاقدامات کرنا ہوں گے: وزیر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور: وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ معاملات کو زیادہ سے زیادہ سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کا مؤقف واضح رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق گزشتہ برس اعلیٰ سطحی وفود افغانستان کا دورہ کرتے رہے اور سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم بدقسمتی سے یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کا فقدان رہا، جبکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو سرحد پار سہولت کاری حاصل ہوتی رہی۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی کے باعث ہمارے سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اسی لیے پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ بھی بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد طالبان حکومت کو مضبوط کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سرحد پار انہوں نے گردی کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔