غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی سیاستدان ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے پاکستان مخالف بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔

کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے اپنے ایک کالم میں مودی سرکار کی ہندو انتہا پسندی سے ایک بار پھر پردہ چاک کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بی جے پی نے پاکستان مخالف بیانیہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔

ششی تھرور لکھتے ہیں کہ پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی پالیسی ناکام ہو چکی۔ اب خود بھارت میں پاکستان دشمن پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور بی جے پی کے بیانیے کو اندرونی چیلنج کا سامنا ہے۔

بھارتی سیاستدان نے مزید کہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بھارتی پالیسی خود فریبی اور بی جے پی کا سخت موقف غلط ثابت ہوا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تصادم کی سیاست خطے کو غیر محفوظ بنا رہی ہے۔

ششی تھرور نے کہا کہ پاکستان سے مذاکرات کے بغیر امن ممکن نہیں اور پاکستان سے بات چیت کسی کی بھی شکست نہیں ہے۔

دریں اثنا بھارتی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مستقل دشمنی کی پالیسی کے خلاف بھارت میں آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں اور بھارت کا سنجیدہ طبقہ پاکستان سے مذاکرات کا حامی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہ پاکستان پاکستان سے ششی تھرور بی جے پی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد