بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ ختم کرنے کیلئے آئی سی سی کے ترلے: حکومت فیصلہ کرے گی: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور(سپورٹس رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ)لاہور میں آئی سی سی بیٹھک، پاکستان کچھ مان گیا، کچھ منوانے کی کوششیں، نقوی وزیر اعظم سے دوبارہ ملیں گے۔ پاکستان ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت کے میچ کے بائیکاٹ کے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار ہے۔ آئی سی سی نے پاکستان کو 2 سے 3 معاملات میں تعاون کی پیشکش کر دی لیکن ضروری نہیں کہ وہ پورا کر سکے۔ اس میں ہینڈ شیک، مالیات، بنگلہ دیش کیلئے فوائد جیسے ایشوز ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی حتمی فیصلہ آنے سے قبل معاملے پر ایک بار پھر وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کریں گے۔ قذافی سٹیڈیم میں نقوی سے ملاقات کے دوران آئی سی سی حکام نے پی سی بی کو بائیکاٹ کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔ نقوی جو پاکستان کے وزیر داخلہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ایک بار پھر اس معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف سے مشورہ کریں گے۔ پی سی بی نے آئی سی سی کو جواب دیا ہے کہ میچ سے متعلق حتمی فیصلہ حکومت پاکستان کا ہی ہو گا۔ عمران خواجہ نے پاکستانی موقف آئی سی سی بورڈ ممبران کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈ کے مبشر عثمانی نے بھی مذاکرات میں ورچوئل شرکت کی۔ آئی سی سی کے وفد سے ملاقات کے علاوہ نقوی اور پی سی بی کے دیگر حکام نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام بلبل کیساتھ جاری تعطل کے حوالے سے بات چیت کی۔ لہجے کی یہ اچانک تبدیلی آئی سی سی کی جانب سے پاکستان سے وضاحت طلب کرنے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ٹیم کے بھارت کیخلاف ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے سے انکار کو جواز فراہم کرنے کیلئے کس طرح فورس میجر کی شق کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سری لنکا کرکٹ نے بھی پی سی بی کو خط لکھا ہے کہ مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے ان کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ وہ بھارتی بورڈ سے بات کریگا کہ کھیل کی روح کے منافی اقدامات سے گریز کرے اور ہینڈ شیک جیسے ایشوز کو بڑھاوا مت دے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی عمران خواجہ اور صدر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین الاسلام نے ملاقاتیں کی ہیں۔ پی سی بی ہیڈکوارٹر لاہور میں ملاقات کے دوران ٹی20 ورلڈ کپ تنازعہ، پاکستان کے بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے پاکستان کو منانے کی کوشش کی۔ قبل ازیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کے قذافی سٹیڈیم پہنچنے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے استقبال کیا۔ پی سی بی ہیڈکوارٹر لاہور میں ملاقات کے دوران سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر، ایڈوائزر ٹو چیئرمین عامر میر بھی موجود تھے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے لاہور میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کی اور ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت میں نہ کھیلنے کے معاملے پر بنگلہ دیش کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھی قذافی سٹیڈیم پہنچے جہاں پی سی بی اور آئی سی سی حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کا ایجنڈا ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان کو بھارت کیخلاف راؤنڈ میچ کھیلنے پر آمادہ کرنا تھا۔ سری لنکا کے بعد اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بھارت کیخلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر دی۔ ذرائع کے مطابق اماراتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے اور بھارت کیخلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ اماراتی کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سے قبل سری لنکا نے بھی پاکستان سے بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق بھارت کیخلاف ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے پاکستان بائیکاٹ کے لاہور میں بنگلہ دیش محسن نقوی ملاقات کے کرکٹ بورڈ پی سی بی نے بھی
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔