مینڈیٹ چوری، آئینی تضحیک، قانون شکنی میں سب ایک جیسے ہیں: اختر ڈار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
شیخوپورہ (نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں کی گالی گلوچ، گھیرائو، جلائو، توڑ پھوڑ، ریاست کیخلاف اقدامات کے باعث 2024ء سے2026ء تک رہائی سے رسائی اور رسائی سے رسوائی تک کا سفر انتہائی شرمناک اور لا حاصل رہا ہے۔ ٹکرائو کبھی مسائل اور سیاسی اختلافات کا حل نہیں رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی ذات کو پس پشت ڈالتے ہوئے سیاسی دشمنیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے دونوں طرف سے سٹپ ڈائون کیا جائے اور ملکی سالمیت، سیاسی استحکام کیلئے لائنز ڈرا کی جائیں۔ 8 فروری کی کال پر کان نہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اور عوام سمجھتے ہے کہ مینڈیٹ، چوری، آئینی تضحیک، قانون شکنی میں یہ سب ایک جیسے ہیں اور سب ہی مجرم ہیں، یہ باتیں انہوں نے مختلف وفود سے ملاقاتیں کرتے ہوئے کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔