لاہور:

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین السلام اپنا دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے لاہور ائیرپورٹ پر خود پہنچ کر معزز مہمان کو الوداع کہا۔

ذرائع کے مطابق امین السلام نے اپنے دورے کے دوران پی سی بی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ کرکٹ تعلقات، باہمی سیریز اور آئی سی سی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں بورڈز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

امین السلام نے گزشتہ رات قذافی اسٹیڈیم میں آئی سی سی وفد کے ساتھ پی سی بی کے چیئرمین کی ہونے والے بات چیت میں شرکت کی جو کہ خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

طویل میٹنگ میں زیر بحث ایشوز پر گفتگو کے بعد اب آئی سی سی کے نمائندے عمران خواجہ میٹنگ کی تفصیلات سے آئی سی سی کو آگاہ کریں گے۔

ائیرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلہ دیشی بورڈ کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ روابط مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے امین السلام کے دورے کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نے مہمان نوازی پر پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امین السلام بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پی سی بی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی