ریاض میں ورلڈ ڈیفنس شو کا آغاز، پاکستانی پویلین عالمی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ورلڈ ڈیفنس شو (World Defense Show – WDS) بھرپور انداز میں جاری ہے، جو عالمی دفاعی صنعت کے رہنماؤں، پالیسی سازوں، عسکری ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ عالمی دفاعی نمائش خادمِ حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں منعقد کی جا رہی ہے۔
ورلڈ ڈیفنس شو کی افتتاحی تقریب کا باضابطہ افتتاح سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کیا۔ اس عالمی نمائش کا اہتمام جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز (GAMI) کے تحت کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے درجنوں ممالک کی دفاعی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک سعودی دفاعی معاہدہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے، عاصم افتخار احمد
نمائش میں فضائی، بری، بحری، خلائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں جدید دفاعی ٹیکنالوجیز، ہتھیاروں کے نظام اور جدید سیکیورٹی حل پیش کیے جا رہے ہیں۔ ورلڈ ڈیفنس شو اس وقت عالمی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں مستقبل کے دفاعی تقاضوں اور مشترکہ سلامتی کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
ورلڈ ڈیفنس شو میں پاکستان کا پویلین بھی نمایاں طور پر قائم کیا گیا ہے، جہاں پاکستان کی دفاعی صنعت سے وابستہ تقریباً 15 سے 20 معروف ادارے اور کمپنیاں اپنی جدید دفاعی مصنوعات، ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پاکستانی پویلین کو عالمی وفود کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی اور بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
پاکستانی پویلین کا دورہ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کیا۔ اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر، اعلیٰ سفارتی و عسکری حکام، دفاعی ماہرین اور پاکستانی وفد کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عالمی دفاعی منڈی میں اپنی شناخت مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ ڈیفنس شو جیسے عالمی پلیٹ فارمز پاکستانی دفاعی صنعت کے لیے بین الاقوامی تعاون، شراکت داری اور دفاعی برآمدات کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ورلڈ ڈیفنس شو میں پاکستان کی شرکت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کی واضح عکاس ہے، اور اس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
ورلڈ ڈیفنس شو سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد ایئر شو کا بھی شاندار مظاہرہ کیا گیا، جس میں مختلف طیاروں نے فضائی کرتب دکھائے۔ ایئر شو نے شرکاء اور تماشائیوں کو بے حد متاثر کیا اور نمائش کے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان خواجہ آصف ریاض سعودی عرب ورلڈ ڈیفنس شو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خواجہ ا صف ریاض ورلڈ ڈیفنس شو ورلڈ ڈیفنس شو سعودی عرب کے عالمی دفاعی دفاعی صنعت وفاقی وزیر کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں