بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو 6 ماہ قید کیوں سنائی گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے آخری لمحے میں دائر کی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعد تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک طویل عرصے سے زیرِ سماعت 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس اور قرض کی عدم ادائیگی کے مقدمے میں کی گئی، جس میں عدالت نے انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ معاملہ سال 2010 کا ہے جب راجپال یادو نے اپنی فلم ’اتا، پتہ، لاپتہ‘ کی پروڈکشن کے لیے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں سود، جرمانوں اور تاخیر کی وجہ سے واجب الادا رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے اداکار کی جانب سے جاری کیے گئے متعدد چیک باؤنس ہو گئے جس پر چیک ڈس آنر کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار راجپال یادیو قرض نہ چکانے پر پھر مشکل میں پڑگئے
دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران اس امر کا سخت نوٹس لیا کہ راجپال یادو کو گزشتہ کئی برسوں میں عدالت کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے لیے بارہا مہلت دی گئی تاہم وہ عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے۔ عدالت نے ریکارڈ پر موجود تقریباً 20 مختلف عدالتی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
4 فروری 2026 کو عدالت نے مزید مہلت کے لیے دائر کی گئی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون عدالتی احکامات کی پاسداری کو ترجیح دیتا ہے نہ کہ ان کی خلاف ورزی کو۔ عدالت نے اداکار کے طرزِ عمل کو ’قابلِ مذمت‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ شہرت یا فلمی پس منظر کسی بھی فرد کو خصوصی رعایت کا حق نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: چیک باؤنس کیس: بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کی درخواست ضمانت مسترد، کیا اب جیل جانا پڑے گا؟
عدالتی حکم کے بعد راجپال یادو نے 5 فروری 2026 کو تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا جہاں انہوں نے چھ ماہ کی سزا کا آغاز کیا۔ اس سے قبل ان کے وکیل کی جانب سے 25 لاکھ روپے کا نیا چیک اور ادائیگی کا نیا شیڈول پیش کیا گیا تاہم عدالت نے سرنڈر کے حکم کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق جیل کی سزا اداکار کی مالی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی اور راجپال یادو بدستور بقایا رقم کی ادائیگی کے پابند رہیں گے۔ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ ریلیف کا انحصار عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد اور قابلِ عمل ادائیگی منصوبے پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کپل شرما کو قتل کی دھمکی: بھارتی پولیس نے پاکستان کا نام لے لیا
یہ معاملہ عدالتی نظام کی جانب سے اس مؤقف کی واضح مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں اور عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار راجپال یادیو راجپال یادیو جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ بالی ووڈ اداکار راجپال یادیو راجپال یادیو جیل اداکار راجپال راجپال یادو ادائیگی کے کی جانب سے بالی ووڈ عدالت نے کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔