City 42:
2026-06-02@22:23:14 GMT
بہاولنگر: 3 سالہ بچہ گندے پانی کے گڑھے میں گرکرجاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
(ویب ڈیسک )بہاولنگر میں 3 سال کا بچہ گندے پانی کے گڑھے میں گرکرجاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق بہاول نگر میں اڈا سونڈھا روڈ پر 3 سال کا بچہ گندے پانی کے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اہل محلہ نے بچے کی لاش کو گڑھے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔
یاد رے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب بھی گٹر میں گر کر ماں اور بیٹا جاں بحق ہوئے تھے جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے سختی سے ایکشن لیتے ہوئے کہا تھا کہ گٹر کا ڈھنکن چوری کرنے، خریدنے اور بیچنے پر سزا ہوگی۔
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
وزیر اعلیٰ کے احکامات کے بعد بھی یہ سلسلہ نہ رکا اور قصور میں بھی ایک شادی ہال کے مین ہول میں گر کر 3 سال کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔