سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کی جانب سے بانی تحریک انصاف عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں:
رکن قومی اسمبلی اور عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کی درخواست پر حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔۔لطیف کھوسہ کی جانب سے عمران خان سے فوری ملاقات کی اجازت کی استدعا پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ملاقات سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان سے ملاقات کی فوری اجازت کی استدعا مسترد کر دی کل کے لیے نوٹسز جاری pic.
— Bakhtawar khan (@Bakhtt_PTI) February 9, 2026
سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں پر 3 رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
اسی طرح شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے لیے بھی 3 رکنی بینچ بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
مزید پڑھیں:
عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
بینچ نے قرار دیا کہ متعلقہ قانونی نکات پر مناسب فورم پر سماعت کی جا چکی ہے، جس کے باعث ضمانت کی درخواست مزید قابلِ سماعت نہیں رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپریم کورٹ عمران خان لطیف کھوسہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ لطیف کھوسہ لطیف کھوسہ کی درخواست سپریم کورٹ ملاقات کی کیس میں کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔