بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان، سردی کی شدت برقرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد رہے گا جبکہ مطلع جزوی سے مکمل طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔
کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ژوب، موسیٰ خیل، مستونگ، قلات، تربت، چاغی، گوادر اور خاران میں بھی بارش کی توقع ہے، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درجہ حرارت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قلات اور زیارت میں منفی ایک ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ژوب میں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا۔
سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 12 اور تربت میں 16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، جبکہ نوکنڈی میں 9 اور چمن میں 6 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ ساحلی علاقوں میں گوادر کا کم سے کم درجہ حرارت 13 اور جیوانی میں 15 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔