پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کے لئے ایک ڈھال ہے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کے لئے ایک ڈھال ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے اطالوی ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی اور یورپین کمشنر میگنس برنر نے رابطہ کیا اور اسلام آباد میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردانہ حملے میں جانی نقصان پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اطالوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ المناک واقعہ کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا، اٹلی کی حکومت اور اپنی جانب سے متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، جاں بحق افراد کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی ہر قسم کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کیلئے اٹلی تعاون جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔
یورپین کمشنر کا کہنا تھا کہ ہماری دعائیں متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، دکھ کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مشکل وقت میں اظہار یکجہتی پر اطالوی وزیر داخلہ اور یورپین کمشنر کا شکریہ اداکیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان دنیا کے لئے ایک ڈھال ہے، آج دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے عالمی سطح پر مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔