شگر، سانحہ ترلائی کے شہید طالب علم کی نماز جنازہ و تدفین، رقت آمیز مناظر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
شہید طالبعلم کے جسد خاکی کو ایک بڑے جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ جگہ جگہ ہزاروں لوگوں نے شہید کا استقبال کیا۔ بعد ازاں نوجوان شہید طالب علم معراج راجو کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ سانحہ ترلائی اسلام آباد میں شہید ہونے والے طالب علم معراج راجو کو شگر میں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اسلام آباد ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ میں خودکش حملے میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم معراج راجو بھی شہید ہوئے تھے۔ شہید کا جسد خاکی جب شگر پہنچا تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ امامیہ جامع مسجد شگر میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شگر کی فضاء سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشکبار۔ شہید طالبعلم کے جسد خاکی کو ایک بڑے جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ جگہ جگہ ہزاروں لوگوں نے شہید کا استقبال کیا۔ بعد ازاں نوجوان شہید طالب علم معراج راجو کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طالب علم معراج راجو شہید طالب
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔