کراچی:یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 کے دوسرے روز سندھ پولیس کی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) سواٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوسٹیج ریسکیو ایونٹ میں اپنے روایتی حریف بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ترجمان ایس ایس یو کے مطابق پاکستانی ٹیم نے چیلنج محض ایک منٹ 15 سیکنڈز میں مکمل کر کے واضح برتری حاصل کی، جبکہ بھارتی نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کی ٹیم نے یہی مقابلہ ایک منٹ 29 سیکنڈز میں مکمل کیا۔

ایس ایس یو سواٹ ٹیم کی اس نمایاں کامیابی پر ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد نے ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت، رفتار اور ٹیم ورک کا اعلیٰ مظاہرہ کیا ہے۔
https://dailymumtaz.

com/wp-content/uploads/2026/02/WhatsApp-Video-2026-02-09-at-12-37-52-AM.mp4

ترجمان کے مطابق یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 دبئی پولیس کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہا ہے جو 11 فروری تک جاری رہے گا۔

عالمی سطح کے اس مشکل ترین ٹیکٹیکل مقابلے میں 52 ممالک کی 118 سواٹ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

پاکستان کی نمائندگی اس عالمی ایونٹ میں سندھ پولیس کی ایس ایس یو کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کی ٹیم بھی کر رہی ہے۔ یو اے ای سواٹ چیلنج کو دنیا کے مشکل ترین اور باوقار ٹیکٹیکل مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایس ایس یو سواٹ ٹیم ٹیم نے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی