انتخابات کو شفاف بنانا بڑا چیلنج ہے،چیف ایڈوائزربنگلادیش
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-10
ڈھاکا (صباح نیوز) بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتہ نہایت اہم ہے کیونکہ 12 فروری کو قومی انتخابات اور ریفرنڈم منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک انتخابی تیاریوں کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف ایڈوائزر کے پریس سیکرٹری شفیق الاسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں منعقدہ انتخابی تیاریوں سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پروفیسر یونس نے کہا،‘‘ہم مطمئن ہیں، ہم بہت خوش ہیں۔ پروفیسر یونس نے کہا کہ اصل چیلنج ووٹنگ کے عمل کومکمل طور پر شفاف اور درست بنانا ہے، اسی لیے آنے والا ایک ہفتہ نہایت فیصلہ کن ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری انتخابی مہم کو پُرامن اور خوشگوار ماحول میں جاری قرار دیتے ہوئے اسے ملکی سیاسی کلچر کے لیے ایک مثبت اشارہ کہا۔ چیف ایڈوائزر نے امید ظاہر کی کہ انتخابات ایک تہوار کی شکل اختیار کریں گے اور محفوظ ماحول میں منعقد ہوں گے، جہاں خواتین سمیت عوام اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بھرپور شرکت کریں گے۔ اجلاس میں، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر نے کی، مجموعی انتخابی تیاریوں، سیکورٹی انتظامات اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف ایڈوائزر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔