کشتواڑ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران بھارتی فوجیوں کی فائرنگ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ایک بھارتی پولیس افسر نے بتایا کہ فائرنگ احتیاطی اقدام کے طور پر کی گئی تاکہ مشکوک نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لئے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ ضلع کے علاقے چھاترو میں فوجی آپریشن کے دوران کی گئی جس سے علاقے میں بھارت کی طرف سے اختیار کردہ ظالمانہ طرز عمل ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔ اس سفاکانہ کارروائی کو جواز فراہم کرنے کے لیے بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں مشکوک سرگرمی دیکھی۔ ایک بھارتی پولیس افسر نے بتایا کہ فائرنگ احتیاطی اقدام کے طور پر کی گئی تاکہ مشکوک نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا اور بھارتی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک