امریکی کانگریس جیفری ایپسٹین کی معاون گھسلین میکسویل سے خفیہ بیان لے گی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
امریکی کانگریس آج بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل سے بند کمرے میں بیان ریکارڈ کرے گی، تاہم امکان ہے کہ وہ سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیں گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 20 سال قید کی سزا کاٹنے والی گھسلین میکسویل، جو ایپسٹین کے لیے کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث پائی گئی تھیں، امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوں گی۔
کانگریسی کمیٹی ایپسٹین کے بااثر سیاسی اور کاروباری شخصیات سے تعلقات اور اس کے جرائم سے متعلق معلومات کے سرکاری ریکارڈ کو جانچ رہی ہے۔ تاہم میکسویل کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر انہیں قانونی استثنیٰ نہ دیا گیا تو وہ امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت خود کو مجرم ثابت ہونے سے بچانے کے حق کا استعمال کریں گی۔
مزید پڑھیںایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام، روحانی پیشوا کے دفتر کی دوٹوک وضاحت سامنے آگئی
وکلا کے مطابق کانگریس کی جانب سے قانونی تحفظ نہ دیے جانے کی صورت میں یہ کارروائی محض سیاسی ڈرامہ ثابت ہوگی۔ امریکی قانون سازوں نے میکسویل کو استثنیٰ دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2008 میں نابالغ لڑکی سے جنسی تعلقات کے جرم میں سزا یافتہ قرار پایا تھا۔ 2019 میں بچوں کی اسمگلنگ کے مقدمے کی سماعت کے دوران وہ جیل میں ہلاک ہو گیا، جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن سمیت کئی بااثر شخصیات کے ایپسٹین سے تعلقات سامنے آنے کے بعد امریکی سیاست میں شدید ہلچل مچی تھی۔ اوور سائٹ کمیٹی آئندہ دنوں میں بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن سے بھی بیان لینے کا ارادہ رکھتی ہے، جنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیانات عوامی سطح پر ریکارڈ کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔