ٹی20 ورلڈ کپ: اسکاٹ لینڈ کی اٹلی کو شکست، کیا زخمی اطالوی کپتان ٹورنامنٹ کھیل پائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں اٹلی کو اپنے تاریخی پہلے میچ میں دوہرا دھچکا برداشت کرنا پڑا جب نہ صرف اسے اسکاٹ لینڈ کے ہاتھوں 73 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ٹیم کے کپتان وین میڈسن کندھے کی سنگین چوٹ کے باعث میچ سے باہر ہو گئے۔
یہ واقعہ کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں پیر کو پیش آیا، جہاں اسکاٹ لینڈ کی اننگز کے چوتھے اوور میں مڈ وکٹ پر فیلڈنگ کرتے ہوئے وین میڈسن نے جارج منسی کے زوردار پل شاٹ کو روکنے کے لیے ڈائیو لگائی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیپال کو شکست دے دی
تاہم پریکٹس پچز پر ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ عجیب انداز میں زمین پر آ گرے، جس کے نتیجے میں ان کا بایاں کندھا اکھڑ گیا۔
42 سالہ وین میڈسن کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی اور بائیں بازو کو تولیے سے سہارا دے کر میدان سے باہر لے جایا گیا، بعد ازاں ایکسرے کے لیے بھیج دیا گیا۔
Huge win for Scotland over Italy in Kolkata.
16 Million views for this european clash on Hotstar. pic.twitter.com/z62KEC1eMC
— Ragav X (@ragav_x) February 9, 2026
کندھے کے اکھڑنے کی انجری سے صحتیابی میں عموماً ایک سے 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
تاہم سنگین صورت میں کئی ماہ بھی درکار ہوتے ہیں، جس کے باعث میڈسن کی ٹورنامنٹ میں مزید شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ان کی عدم موجودگی میں آل راؤنڈر ہیری منینٹی نے کپتانی کے فرائض سنبھالے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں، یو اے ای کی پاکستان سے درخواست
میچ میں اسکاٹ لینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اوپنر جارج منسی نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 54 گیندوں پر 84 رنز اسکور کیے، جس میں 14 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
انہیں 41 رنز پر کیچ چھوڑنے کا فائدہ ملا، جس کا اٹلی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
بعد ازاں مائیکل لیک نے آخری اوورز میں تباہ کن بیٹنگ کرتے ہوئے محض 5 گیندوں پر 22 ناقابلِ شکست رنز بنائے۔
مزید پڑھیں:
لیک نے بیٹنگ کے بعد گیند بازی میں بھی کمال دکھایا اور پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے 17 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ مکمل طور پر اسکاٹ لینڈ کے حق میں پلٹ دیا۔
اٹلی کی ٹیم 16.4 اوورز میں 134 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جبکہ زخمی ہونے کے باعث کپتان وین میڈسن بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آ سکے۔
اٹلی کی جانب سے بین منینٹی نے مزاحمت کرتے ہوئے 31 گیندوں پر 52 رنز بنائے، جو اٹلی کی تاریخ کی پہلی ٹی20 ورلڈ کپ نصف سنچری ہے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے اپنے بھائی ہیری منینٹی کے ساتھ 73 رنز کی شراکت قائم کر کے امیدیں جگائیں، تاہم مائیکل لیک نے اہم موقع پر وکٹیں حاصل کر کے اس شراکت کا خاتمہ کر دیا۔
اس جیت کے بعد گروپ سی میں ویسٹ انڈیز، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ سرفہرست 3 پوزیشنز پر موجود ہیں، جہاں فرق صرف نیٹ رن ریٹ کا ہے۔
اسکاٹ لینڈ نے 2 جبکہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز نے ایک ایک میچ کھیلا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل راؤنڈر اٹلی اسکاٹ لینڈ ایکسرے شکست مائیکل لیک مڈ وکٹ ہیری منینٹی وین میڈسن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی اسکاٹ لینڈ ایکسرے مائیکل لیک مڈ وکٹ ہیری منینٹی وین میڈسن ٹی20 ورلڈ کپ اسکاٹ لینڈ وین میڈسن کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔