شرح سود میں کمی نہ کرنے کی وجہ مستقبل کے خدشات ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں کمی کے باوجود مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، کیونکہ عالمی سطح پر مسلسل غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ مقامی دباؤ کے پیش نظر پیشگی اقدامات اب بھی ناگزیر ہیں۔
یہ بات انہوں نے سعودی وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے اشتراک سے منعقدہ العُلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات بروقت، فعال اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ حتمی اہداف حاصل کیے جا سکیں، کیونکہ مرکزی بینک کے لیے سب سے مشکل مرحلہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ابھرتی معیشتوں کی العلا کانفرنس 2026 کا آغاز، عالمی اقتصادی چیلنجز پر غور
گورنر نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے اور بعض اوقات اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔
’ہم شرح سود کو نسبتاً بلند سطح پر رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں حقیقی مؤثر شرح سود کافی زیادہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ شرح سود کم کیوں نہیں کی جارہی اور مرکزی بینک کاروبار و معاشی ترقی کی حمایت کیوں نہیں کر رہا۔
مزید پڑھیں: اپٹما کا مانیٹری پالیسی کمیٹی سے شرح سود میں 400 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ
انہوں نے وضاحت کی کہ کئی اسٹیک ہولڈرز آنے والی عالمی اور مقامی معاشی تبدیلیوں سے آگاہ نہیں ہوتے، جو مستقبل میں مہنگائی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق آج جو حقیقی شرح سود زیادہ محسوس ہو رہی ہے، ممکن ہے آنے والے وقت میں وہ برقرار نہ رہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات مرکزی بینک کے لیے معاشی عوامل اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یہ قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بلند شرح سود کسی ممکنہ آئندہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے رکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود برقرار
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک نے 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 10.
مذکورہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا، کیونکہ مارکیٹ شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی تھی۔
تاہم جمیل احمد نے کہا کہ اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔
’اگر پیشہ ورانہ تجزیہ کاروں کو دیکھیں تو سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال مہنگائی 5 سے 7 فیصد کی حد میں رہے گی۔ یہی ہماری ساکھ ہے کہ جو ہم کہتے ہیں، مارکیٹ اس پر یقین کرتی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک العلا کانفرنس پاکستان پالیسی ریٹ جمیل احمد سعودی عرب شرح سود مانیٹری پالیسی کمیٹی وزارت خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹیٹ بینک العلا کانفرنس پاکستان پالیسی ریٹ جمیل احمد مانیٹری پالیسی کمیٹی گورنر اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی جمیل احمد بینک کے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔