’ٹو مچ‘ گانے کے مشہور برطانوی گلوکار نے لائیو اسٹریم کے دوران اسلام قبول کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مشہور برطانوی ریپر اور گلوکار سینٹرل سی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
گلوکار نے ایک لائیو اسٹریمنگ کے دوران کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہوں نے اپنا نام بھی تبدیل کر لیا ہے۔
27 سالہ فنکار، جن کا اصل نام اوکلی نیل سیزر-سو ہے، نے لائیو اسٹریم میں کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا پہلا نام اوکلی سے تبدیل کر کے عقیل رکھ لیا ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے کلمہ شہادت ادا کیا، جس پر ان کے ساتھ موجود دوستوں نے انہیں مبارکباد دی۔
سینٹرل سی نے اپنے روحانی سفر سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ماضی میں ان کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں عربی کیپشنز دیکھ کر مداحوں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جاتی رہی تھیں۔ اس سے قبل انہوں نے کبھی کھل کر اپنے مذہبی عقائد پر بات نہیں کی تھی۔
سینٹرل سی کو 2023 میں ریلیز ہونے والے مشہور گانے ’ٹو مچ‘ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ اپنی منفرد موسیقی اور عام زندگی سے جڑے بولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں مداح رکھتے ہیں۔
View this post on Instagram4 جون 1998 کو لندن میں پیدا ہونے والے سینٹرل سی نے 2014 میں اپنے موسیقی کے کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ برطانوی ڈرل اور ریپ میوزک کے نمایاں فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ 2024 میں انہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنے جانے والے برطانوی ریپر کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جن کے گانوں کو مختلف پلیٹ فارمز پر اربوں بار سنا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔