Islam Times:
2026-06-02@23:50:59 GMT

ترلائی اور کمپرومائزڈ مُلّاں

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ترلائی اور کمپرومائزڈ مُلّاں

اسلام ٹائمز: لاشوں پر سیاست کے حوالے سے دو طرح کے مُلّاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے کافر کافر کے نعرے لگا کر ملک کے گلی کوچوں کو خون سے رنگین کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے اس خون پر پردہ ڈالا۔ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے جٹے بٹے اور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ یہ ایک ہی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ایک خون بہاتا ہے اور دوسرا خون چھپاتا ہے۔ ایک کو خون بہانے کا معاوضہ ملتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے کا۔ ایک کو قاتلوں کے نیٹ ورکس کا قائد بنایا جاتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے والے گروہ کا قائد۔ ان کمپرومائزڈ ملاوں کے گٹھ جوڑ سے انتہا پسندی کو نظریاتی غذا ملتی ہے، فرقہ واریت جڑیں پکڑتی ہے اور معاشرہ مستقل عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام ریاست پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور دشمن قوتوں کو اندرونی کمزوریوں اور باہمی عدمِ اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا بار بار موقع ملتا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

برسوں سے پاکستان میں عبادت گاہیں محفوظ نہیں۔ انہیں ہائی رسک ٹارگٹس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود  سانحات کو روکنے میں ہم مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ آج ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال سُلگ رہا ہے کہ اگر پاکستان میں عبادت گاہیں پہلے ہی حساس مراکز میں شمار ہوتی ہیں تو پھر کیا ترلائی جیسے علاقے  میں نماز جمعہ کے اجتماع کے حوالے سے انٹیلی جنس ادارے لاعلم تھے؟ اور اگر انہیں معلومات تھیں تو اضافی سیکیورٹی کا بندوبست کس نے کرنا تھا؟ ہمارے نزدیک اصل مسئلہ سیکیورٹی بندوبست کی کمی کے بجائے پاکستان کے دارالحکومت میں افغانستان اور ہندوستان کے کارندوں کی کامیاب کارروائی کا ہے۔ یقیناً پاکستان کے  مختلف سیکورٹی اداروں کے پاس یا تو معلومات نہیں تھیں اور یا پھر ان کے درمیان یہ معلومات بروقت اور مکمل طور پر شیئر نہیں ہوئیں۔

اگر کسی ایک ادارے کے پاس جزوی معلومات تھیں بھی تو کیا وہ باقی نظام تک مؤثر انداز میں پہنچیں؟ اور یا ہمارا انٹیلی جنس سسٹم آج بھی فرسودہ اور کہنہ طریقوں پر گامزن ہے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ دارالحکومت جیسے شہر میں سیکیورٹی کا تصور آخر کس چیز کے گرد گھومتا ہے؟ کیا یہ ایک حقیقت ہے کہ  ہمارے سیکورٹی اداروں کی اصل توجہ ’’اہم شخصیات‘‘ پر ہے اور ان کیلئے  ’’پبلک مقامات‘‘ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں؟ کہیں عبادت گاہوں اور پبلک مقامت کو سیکورٹی کے حوالے سے اس لیے تو نظرانداز نہیں کر دیا جاتا ہے کہ وہاں سیکیورٹی ناکامی سیاسی بحران میں تبدیل نہیں ہوتی؟ وہاں سادہ لوح لوگوں کو یہ کہہ کر لاشیں دفنا دی جاتی ہیں کہ احتجاج کرنا تو لاشوں پر سیاست کرنا ہے لہذا اپنی  اپنی لاشوں کو دفناؤ اور گھروں میں دبک کر بیٹھ جاؤ۔

لاشوں پر سیاست کے حوالے سے دو طرح کے مُلّاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے کافر کافر کے نعرے لگا کر ملک کے گلی کوچوں کو خون سے رنگین کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے اس خون پر پردہ ڈالا۔ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے جٹے بٹے اور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ یہ ایک ہی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ایک خون بہاتا ہے اور دوسرا خون چھپاتا ہے۔ ایک کو خون بہانے کا معاوضہ ملتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے کا۔ ایک کو قاتلوں کے نیٹ ورکس کا قائد بنایا جاتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے والے گروہ کا قائد۔ ان کمپرومائزڈ ملاوں کے گٹھ جوڑ سے انتہا پسندی کو نظریاتی غذا ملتی ہے، فرقہ واریت جڑیں پکڑتی ہے اور معاشرہ مستقل عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام ریاست پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور دشمن قوتوں کو اندرونی کمزوریوں اور باہمی عدمِ اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا بار بار موقع ملتا ہے۔

ملکی سیکورٹی کے لیے یہ متشدد اور کمپرومائزڈ مُلّاں ایک ہی زہر کی دو خوراکیں ہیں۔ ایک زہر کا انجکشن ہے اور دوسرا کیپسول۔ ایک تشدد کو مذہبی نعرے دے کر کھلے عام پھیلاتا ہے، اور دوسرا اسی تشدد کو خاموشی، تاویل اور مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام لوگوں کا ریاست اور مُلک سے اعتماد ہی اُٹھ جاتا ہے۔ یہ دونوں گروہ عوام اور ریاست کو مکالمہ ہی نہیں کرنے دیتے۔ ایک تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا خاموش ہوجاؤ! خاموش ہو جاؤ! کی تلوار لہراتا ہے۔ واضح بات ہے کہ جب لوگوں کو زبردستی خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ مطمئن بھی نہیں ہوتے۔ سوال اٹھانے والے اور احتجاج کرنے والے کو جب لاشوں پر سیاست کرنے والا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ کسی خاموش آتش فشاں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔

خون پر پردہ ڈالنے والا طبقہ انصاف کے پورے نظام کو بدنام  کر دیتا ہے۔ جب لوگوں کو احتجاج ہی نہیں کرنے دیا جاتا تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ساری ریاست ہی اُن کے خلاف ہے۔ جب یہ عدمِ اعتماد جنم لیتا ہے تو پھر  ریاست اندر سے ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے۔ یوں قوم کسی ایک حملے سے نہیں بکھرتی لیکن حقِ احتجاج چھین لینے سے کھوکھلی ہوکر بکھر جاتی ہے۔ مُتشدد مُلّا عام لوگوں کا خون بہاتا ہے، اور کمپرومائزڈ مُلا اسی خون کو قابلِ ہضم بناتا ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سانحہ ترلائی کے شہدا کے خون کو "قابلِ ہضم" بنانے کے بجائے عوام کو اپنی ریاست سے یہ پوچھنے دیجئے کہ کیا ہماری سیکیورٹی حکمتِ عملی صرف ردِعمل تک محدود ہے یا حملے سے پہلے مداخلت اور نیٹ ورک توڑنے کی حقیقی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟ حملوں کے بعد ہونے والی گرفتاریاں کیا واقعی دشمن کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں یا ہمیشہ کی طرح نچلی سطح کے کردار ہی سامنے آتے ہیں؟ اسی طرح دہشت گردوں و سہولت کاروں کے سماجی، فکری اور نظریاتی پس منظر کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟

ہمارے سیکورٹی اداروں کو بھی یہ سمجھنا چاہیئے کہ جیسے نفرت انگیز خطبات اور تقاریر ملک کیلئے خطرہ ہیں، اُسی طرح عوام کو ناراض کرنے کیلئے خوشامدی و چاپلوس ملاؤں کا بیانیہ بھی کم خطرناک نہیں؟ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر بڑے حملے کے بعد یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور سبق سیکھا جائے گا لیکن کیا واقعی آزاد، شفاف اور غیر رسمی پوسٹ ایونٹ ریویو ہوتا ہے؟ کیا ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا چند بیانات کے بعد معاملہ فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے؟ اور سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اپنی پالیسی مفروضات کو چیلنج اور چینج کرنے کے لیے تیار بھی ہیں؟

ترلائی کے خودکش دھماکے کو اگر محض ایک سیکیورٹی واقعہ سمجھا جائے تو یہ تجزیہ ادھورا رہے گا۔ اس واقعے نے در اصل ہماری ریاست پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ دارالحکومت میں یہ حملہ ہر پاکستانی پر حملہ ہے۔ دشمن نے اس حملے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کی رِٹ ہمہ گیر نہیں رہی۔ یہ کم وسائل کے ذریعے زیادہ خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی لیے ایسے حملے جانی نقصان تو کرتے ہی ہیں ساتھ ریاستی اعتماد کو بھی زِک پہنچاتے ہیں۔ دارالحکومت میں ایک عبادت گاہ کا انتخاب بھی حساب شُدہ ہے۔ وہ تشدد جو حساب شُدہ بنیادوں پر کیا جائے، معاشرے میں دیرپا دراڑیں پیدا کرتا ہے۔ ایسی دراڑیں ریاست کی توجہ کو بیک وقت کئی سمتوں میں بانٹ دیتی ہیں اور اُس کی  فیصلہ سازی کی صلاحیّت کو کمزور بنا دیتی ہیں۔

اس تناظر میں سانحہ ترلائی ایک اسٹریٹجک ٹول ہے، جس کا مقصد ریاستِ پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنا ہے۔ پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے حوالے سے کمپرومائزڈ اور خوشامدی ملاؤں کا کردار انتہائی اساسی نوعیت کا ہے۔ تشدد ہونے کے بعد کمپرومائزڈ ملاؤں کا طبقہ تشدد کے لیے دینی و اخلاقی جواز کی فضا تیار کرتا ہے۔ منطقی طور پر، کوئی بھی پُرتشدد تحریک اس وقت تک پنپ نہیں سکتی جب تک اسے سماج میں کم از کم خاموش قبولیت حاصل نہ ہو۔ معاشرے میں تشدد کی یہ قبولیت اکثر کھلی حمایت سے نہیں بلکہ میٹھی خاموشی، مبہم بیانات اور غیر متوازن مذمت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ مذہبی بیانیہ جب تشدد کو صراحتاً رد کرنے کے بجائے اسے عقیدے، تاریخ یا مظلومیت کے مبہم حوالوں میں لپیٹ دیتا ہے تو وہ فرد اور ریاست کے اخلاقی و قانونی  فیصلے کو معطل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً تشدد معاشرے میں ایک غیر معمولی جرم کے بجائے ایک ’’قابلِ ہضم فعل‘‘ کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔

ہائبرڈ وار کے نظریے کے مطابق خوشامدی ملّا اسی چین کا وہ حلقہ ہے جو تشدد کو سماج میں رواج دینے کیلئے قابلِ ہضم بناتا ہے اور اِسے قابلِ ہضم بنانے کے عمل کو ثواب اور عظیم عبادت گردانتا ہے۔ اس طرح شدت پسندی حاشیے سے نکل کر معاشرے کی رگ رگ میں دوڑنی لگتی ہے۔ ایسے مواقع پر ریاست کا ذمہ دارانہ  ردِعمل عوام کیلئے خود ایک دلیل ہوتا ہے۔ عوام کو احتجاج کرنے دیں، سوال اٹھانے دیں اور ریاست کو دلائل سے عوام کو قائل کرنے دیں۔ اسی سے عوام اور ریاست ایک دوسرے کے نزدیک ہونگے جبکہ دشمن ناکام اور دور۔ کہیں پر بھی ایک پائیدار ریاستی رِٹ صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب ریاست، اور عوام ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں۔ جہاں ان میں تضاد ہو، وہاں شدت پسند  فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ترلائی کا سانحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی نہ تو محض ایک دن کا واقعہ ہے اور نہ ہی صرف خود کُش دھماکوں کا مسئلہ۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے جسے زبردستی کے بجائے سوچ سمجھ کر روکنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست اس عمل کو صرف ردِعمل کے دائرے میں رکھے گی تو نتائج بھی وقتی ہوں گے۔ دیرپا نتائج کیلئے ہمیں متشدد ملاوں کی طرح کمپرومائزڈ ملاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے ورنہ ہر خودکُش دھماکے کے بعد ہم اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جسے دشمن نے دھماکے سے پہلے ہمارے لئے  کھینچا تھا۔ بقولِ اقبال:
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے اور دوسرے کو خون چھپانے لاشوں پر سیاست ہے اور دوسرا کے حوالے سے دیا جاتا ہے کی ضرورت ہے اور ریاست ا جاتا ہے جنہوں نے کے بجائے تشدد کو عوام کو دیتا ہے سے عوام ملتا ہے کا قائد یہ ایک ایک ہی کے بعد ایک کو کو بھی تو پھر

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان