پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد میں انڈس آرٹیفیشل ٹیکنالوجی ویک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دے گا۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا، پاکستان مشترکہ راہ پر عزم اور جوش کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے۔
وزیراعظم نے آئی ٹی شعبے میں نیا کاروبار شروع کرنے والوں کو خصوصی مراعات دینے کی اصولی منظوری دے دی۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور پہلی آئی ٹی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے، لینڈ ریکارڈ میں اصلاحات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ زمین کے ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا، ای اسٹامپ پیپر کا اجراء کر کے آمدن میں اضافہ کیا گیا، پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں 60 فیصد نوجوان ہیں۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں نے آئی ٹی کے شعبے پر توجہ دی، نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں۔
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جدید اسکینرز اور آلات پورٹس پر نصب کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ٹی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔