Islam Times:
2026-07-24@00:59:38 GMT

جارحیت مزاحمت کو جنم دیتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

جارحیت مزاحمت کو جنم دیتی ہے

اسلام ٹائمز: اگر آج امریکہ یا اسرائیل ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریاست پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تہذیبی شناخت، ایک ریاستی وقار اور ایک علاقائی خودمختاری پر ضرب ہوگی۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ ایران کمزور نہیں ہوگا، مقاومت ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی، بڑی اور زیادہ ہمہ گیر مزاحمتی اور مقاومتی لہر جنم لے گی۔ یہ نئی تحریک کیوں زیادہ خطرناک ہوگی؟ اس لیے کہ یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا پھیلاؤ شرق سے غرب تک ہوگا۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

طاقت کے استعمال سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ جنم لیتی ہیں۔ یہ وہ تاریخ کا ایک مستقل سبق ہے جسے طاقتور ریاستیں بار بار نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت وقتی برتری تو دے سکتی ہے مگر طویل المدت امن نہیں۔ جب کسی خطے پر بیرونی طاقت عسکری دباؤ ڈالتی ہے تو وہ دراصل اس دباو کے نتیجے میں ایک ایسی مزاحمت کو ابھار رہی ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک ہمہ گیر تحریک کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسی تحریک جو پہلے سے زیادہ منظم، زیادہ نظریاتی اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ مفروضہ عام رہا ہے کہ ”شدید فوجی طاقت سے دشمن کو توڑا جا سکتا ہے“۔ لیکن عملی تجربہ اس کے برعکس بتاتا ہے۔

طاقت جسم کو مجروح تو کرتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں شناخت، نظریہ اور اجتماعی احساس قوی تر ہوتا ہے۔ یہی وہ زمینی حقیقت ہے جس کی وجہ سے ویت نام میں امریکہ ،افغانستان میں سوویت یونین ،عراق میں امریکہ اور لبنان میں اسرائیل کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حوالے سے”حزب اللہ“ بہترین مثال ہے جس نے جارحیت کی کوکھ سے جنم لیا۔ اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر جو جارحیت کی اس کا بنیادی ہدف ”پی ایل او “ کو ختم کرنا، یاسر عرفات کو لبنان سے نکالنا اور اپنی شمالی سرحد کو مستقل امن دینا تھا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ ”PLO“ نکل گئی مگر ”حزب اللہ“ پیدا ہو گئی۔

یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک فطری عمل تھا۔ اسرائیلی حملے سے جنوبی لبنان کی شیعہ آبادی براہِ راست متاثر ہوئی۔ ایسے میں ایک مقامی، نظریاتی اور دفاعی ردعمل ناگزیر تھا۔ حزب اللہ باہر سے مسلط نہیں کی گئی بلکہ جارحیت کے ردعمل میں اندر سے ابھری۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ جلاوطنی میں نہیں بلکہ اپنی زمین سے جڑی ہوئی تحریک بنی۔ ہر نئی مزاحمتی تحریک پچھلی سے زیادہ مضبوط کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ وہ پچھلی تحریک کی غلطیوں سے سیکھتی ہے، مقامی سماج پر زیادہ گہرائی سے اثر ڈالتی ہے، نظریاتی بلوغ حاصل کرتی ہے اور اپنی عسکری حکمتِ عملی کو بہتر بناتی ہے۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔

اگر آج امریکہ یا اسرائیل ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریاست پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تہذیبی شناخت، ایک ریاستی وقار اور ایک علاقائی خودمختاری پر ضرب ہوگی۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ ایران کمزور نہیں ہوگا، مقاومت ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی، بڑی اور زیادہ ہمہ گیر مزاحمتی اور مقاومتی لہر جنم لے گی۔ یہ نئی تحریک کیوں زیادہ خطرناک ہوگی؟ اس لیے کہ یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا پھیلاؤ شرق سے غرب تک ہوگا۔  اس کے زیر استعمال جدید ٹیکنالوجی، سائبر، ڈرونز اور جدید ہتھیار ہوں گے۔

یہ تحریک اسرائیل کے ساتھ ساتھ علاقے میں امریکی موجودگی اور اس کے عرب اتحادی ڈھانچے کو بھی ہدف بنائے گی۔ امریکہ کے عرب اتحادی اندرونی طور پر غیر مستحکم اور عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔ یہ اپنی سیکورٹی کے لیے بیرونی طاقت پر انحصار کرتے ہیں۔ جب بڑی مزاحمتی تحریکیں جنم لیتی ہیں تو سب سے پہلے اس قسم کے ریاستی ڈھانچے ہلتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی اصل اسٹریٹجک غلطی یہ رہی ہے کہ وہ مسائل کو سیکورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں وہ سیاسی اور شناختی ہوتے ہیں۔جب تک انصاف، خودمختاری اور عزتِ نفس کا سوال حل نہیں ہوگا، ہر پھٹنے والا بم ایک نئی تحریک کو جنم دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت ہمیشہ اپنے انجام سے بیگانہ رہی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں ہوگی بلکہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تحریک کی حزب اللہ

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم