Islam Times:
2026-06-02@22:26:01 GMT

جارحیت مزاحمت کو جنم دیتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

جارحیت مزاحمت کو جنم دیتی ہے

اسلام ٹائمز: اگر آج امریکہ یا اسرائیل ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریاست پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تہذیبی شناخت، ایک ریاستی وقار اور ایک علاقائی خودمختاری پر ضرب ہوگی۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ ایران کمزور نہیں ہوگا، مقاومت ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی، بڑی اور زیادہ ہمہ گیر مزاحمتی اور مقاومتی لہر جنم لے گی۔ یہ نئی تحریک کیوں زیادہ خطرناک ہوگی؟ اس لیے کہ یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا پھیلاؤ شرق سے غرب تک ہوگا۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

طاقت کے استعمال سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ جنم لیتی ہیں۔ یہ وہ تاریخ کا ایک مستقل سبق ہے جسے طاقتور ریاستیں بار بار نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت وقتی برتری تو دے سکتی ہے مگر طویل المدت امن نہیں۔ جب کسی خطے پر بیرونی طاقت عسکری دباؤ ڈالتی ہے تو وہ دراصل اس دباو کے نتیجے میں ایک ایسی مزاحمت کو ابھار رہی ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک ہمہ گیر تحریک کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسی تحریک جو پہلے سے زیادہ منظم، زیادہ نظریاتی اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ مفروضہ عام رہا ہے کہ ”شدید فوجی طاقت سے دشمن کو توڑا جا سکتا ہے“۔ لیکن عملی تجربہ اس کے برعکس بتاتا ہے۔

طاقت جسم کو مجروح تو کرتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں شناخت، نظریہ اور اجتماعی احساس قوی تر ہوتا ہے۔ یہی وہ زمینی حقیقت ہے جس کی وجہ سے ویت نام میں امریکہ ،افغانستان میں سوویت یونین ،عراق میں امریکہ اور لبنان میں اسرائیل کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حوالے سے”حزب اللہ“ بہترین مثال ہے جس نے جارحیت کی کوکھ سے جنم لیا۔ اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر جو جارحیت کی اس کا بنیادی ہدف ”پی ایل او “ کو ختم کرنا، یاسر عرفات کو لبنان سے نکالنا اور اپنی شمالی سرحد کو مستقل امن دینا تھا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ ”PLO“ نکل گئی مگر ”حزب اللہ“ پیدا ہو گئی۔

یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک فطری عمل تھا۔ اسرائیلی حملے سے جنوبی لبنان کی شیعہ آبادی براہِ راست متاثر ہوئی۔ ایسے میں ایک مقامی، نظریاتی اور دفاعی ردعمل ناگزیر تھا۔ حزب اللہ باہر سے مسلط نہیں کی گئی بلکہ جارحیت کے ردعمل میں اندر سے ابھری۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ جلاوطنی میں نہیں بلکہ اپنی زمین سے جڑی ہوئی تحریک بنی۔ ہر نئی مزاحمتی تحریک پچھلی سے زیادہ مضبوط کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ وہ پچھلی تحریک کی غلطیوں سے سیکھتی ہے، مقامی سماج پر زیادہ گہرائی سے اثر ڈالتی ہے، نظریاتی بلوغ حاصل کرتی ہے اور اپنی عسکری حکمتِ عملی کو بہتر بناتی ہے۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔

اگر آج امریکہ یا اسرائیل ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریاست پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تہذیبی شناخت، ایک ریاستی وقار اور ایک علاقائی خودمختاری پر ضرب ہوگی۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ ایران کمزور نہیں ہوگا، مقاومت ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی، بڑی اور زیادہ ہمہ گیر مزاحمتی اور مقاومتی لہر جنم لے گی۔ یہ نئی تحریک کیوں زیادہ خطرناک ہوگی؟ اس لیے کہ یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا پھیلاؤ شرق سے غرب تک ہوگا۔  اس کے زیر استعمال جدید ٹیکنالوجی، سائبر، ڈرونز اور جدید ہتھیار ہوں گے۔

یہ تحریک اسرائیل کے ساتھ ساتھ علاقے میں امریکی موجودگی اور اس کے عرب اتحادی ڈھانچے کو بھی ہدف بنائے گی۔ امریکہ کے عرب اتحادی اندرونی طور پر غیر مستحکم اور عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔ یہ اپنی سیکورٹی کے لیے بیرونی طاقت پر انحصار کرتے ہیں۔ جب بڑی مزاحمتی تحریکیں جنم لیتی ہیں تو سب سے پہلے اس قسم کے ریاستی ڈھانچے ہلتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی اصل اسٹریٹجک غلطی یہ رہی ہے کہ وہ مسائل کو سیکورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں وہ سیاسی اور شناختی ہوتے ہیں۔جب تک انصاف، خودمختاری اور عزتِ نفس کا سوال حل نہیں ہوگا، ہر پھٹنے والا بم ایک نئی تحریک کو جنم دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت ہمیشہ اپنے انجام سے بیگانہ رہی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں ہوگی بلکہ نہیں ہوگا بلکہ ایک تحریک کی حزب اللہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے