پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پیر کے روز یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر خارجہ ڈار نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شرکت دار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف

’پاکستان نے کامیابی سے جی ایس پی پلس کے 4 دو سالہ جائزے مکمل کیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس اسکیم کے تحت اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ باہمی فائدے کے مواقع کو بڑھایا جا سکے۔

Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 today chaired a high-level inter-ministerial meeting to review measures aimed at strengthening Pakistan’s economic and trade cooperation with the European Union.

DPM/FM underscored the importance of… pic.twitter.com/0lo1zaHV9a

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) February 9, 2026

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق باجوہ، وزیر خارجہ کی سیکریٹری امبیسڈر آمنہ بلوچ، کامرس، داخلہ، اوورسیز پاکستانی اور انسانی حقوق کے سیکریٹریز، پاکستان کے یورپی یونین میں سفیر اور متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے سینیئر افسران نے شرکت کی۔

جی ایس پی پلس ایک ترجیحی تجارتی معاہدہ ہے جو یورپی یونین ترقی پذیر ممالک کو فراہم کرتا ہے۔

جس کے تحت ان کے بیشتر برآمدات کو یورپی مارکیٹ تک بغیر ڈیوٹی کے رسائی ملتی ہے بشرطیکہ وہ انسانی حقوق، لیبر حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھے حکمرانی کے عالمی معاہدوں کو نافذ کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف

یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس نے 29 جنوری کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا تھا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ باہمی فائدے کی تجارتی ترقی کے اقدامات پر خاص طور پر جی ایس پی پلس کے ذریعے قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے یورپی یونین کے سفیر کی ملاقات، باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق

وزیر اعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے سفیر کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، سیکیورٹی، ہجرت اور موسمیاتی تبدیلی سمیت تمام شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرے گا۔

انہوں نے جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت یورپی یونین کے ساتھ اس اسکیم کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار انسانی حقوق جی ایس پی پلس ریمونڈس کاروبلس شہباز شریف لیبر حقوق ماحولیاتی تحفظ وزیر خارجہ یورپی یونین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار جی ایس پی پلس ریمونڈس کاروبلس شہباز شریف لیبر حقوق ماحولیاتی تحفظ یورپی یونین یورپی یونین کے ساتھ اعظم شہباز شریف جی ایس پی پلس کہ پاکستان کرنے کے کے تحت کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری