آزادی مارچ کیس: پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب اشتہاری قرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد: دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق درج دو مقدمات میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے سماعت کے دوران سنایا۔
ضلع کچہری اسلام آباد میں حقیقی آزادی مارچ کے سلسلے میں درج مقدمات کی سماعت کے موقع پر عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب کو متعدد بار طلب کیا گیا، مگر اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ مسلسل غیر حاضری کو سنجیدہ لیتے ہوئے عدالت نے قانون کے مطابق انہیں اشتہاری قرار دینے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سماعت پر ہی علی امین گنڈا پور کے خلاف اشتہاری کارروائی کا عندیہ دے دیا گیا تھا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب دونوں رہنماؤں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور زرتاج گل سمیت دیگر رہنماؤں کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے جبکہ علی امین گنڈا پور اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق دو مقدمات درج ہیں، جن کی سماعت تاحال جاری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلسل غیر حاضری اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، اور ملزمان کو قانونی عمل کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علی امین گنڈا پور اور
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔