سانحہ ترلائی کے خلاف اور رہبر انقلاب کی حمایت میں 15 فروری کو احتجاجی ریلی ہوگی، ملت جعفریہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نہ صرف انقلابِ اسلامی کے رہبر ہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں بالخصوص ملتِ جعفریہ کے روحانی پیشوا اور مرجعِ تقلید ہیں، ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی ہماری ریڈ لائن ہے اور امریکا کو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ملت جعفریہ پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور امریکا کی جانب سے عالمِ اسلام کے عظیم رہنما آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے خلاف دھمکیوں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف 15 فروری بروز اتوار عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعلان ملت جعفریہ سے وابستہ مختلف تنظیموں کی جانب سے پاک محرم ہال کراچی میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں شیعہ علما کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری، ہیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کے مولانا عقیل موسیٰ، مجلس ذاکرین امامیہ کے علامہ نثار قلندری، ہیئت آئمہ مساجد امامیہ پاکستان کے رہنما علامہ مرزا طاہر علی حبیب، مرکزی تنظیم عزاداری کے صدر ایس ایم نقی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی کے جنرل سیکریٹری سید حسن، امامیہ آرگنائزیشن کے رہنما احسن مہدی، تحریک بیداری کراچی کے رہنما یاور عباس، جعفریہ آرگنائزیشن کے چیئرمین حسن صغیر عابدی سمیت علامہ مبشر حسن، سرور علی، رضی حیدر رضوی و دیگر علمائے کرام و رہنماؤں نے شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسلام آباد جیسے حساس شہر میں خودکش دھماکے کو سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیا اور اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور بھارت کی منظم سازش کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کو دوبارہ پروان چڑھایا جا رہا ہے۔مقررین نے کہا کہ وزیر داخلہ کے مطابق خودکش حملہ آور افغانستان سے تربیت یافتہ تھا، تاہم اس کا شناختی کارڈ پاکستانی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے لیے بھرتی اور برین واشنگ پاکستان کے اندر موجود کالعدم تنظیمیں کر رہی ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی کالعدم جماعتیں اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کھلے عام جلسے کر رہی ہیں، شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کر رہی ہیں، مگر ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دھماکے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کالعدم جماعت کا سرغنہ جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا تو سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ وزیر داخلہ کے مطابق پاکستان میں 23 کالعدم دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں، تو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کب کی جائے گی؟ مقررین نے کہا کہ ایک مخصوص کالعدم جماعت اور اس سے منسلک سوشل میڈیا نیٹ ورک اسرائیلی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اور مسلسل شیعہ مسلمانوں اور انقلابِ اسلامی کے خلاف زہریلا مواد پھیلایا جا رہا ہے، مگر پیکا ایکٹ اور سائبر سیکیورٹی ادارے اس خطرناک سرگرمی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا اپنی سپر پاور حیثیت کھو چکا ہے اور اپنی بقا کی جنگ ہمارے خطے میں منتقل کر چکا ہے، ایران میں ریجیم چینج آپریشن کی ناکامی کے بعد امریکا اب جنگ اور دھمکیوں کے ذریعے انقلابِ اسلامی کے ذمہ داران اور مقاومتی رہنماؤں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، اسی تناظر میں امریکی صدر کی جانب سے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔ مقررین نے واضح الفاظ میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نہ صرف انقلابِ اسلامی کے رہبر ہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں بالخصوص ملتِ جعفریہ کے روحانی پیشوا اور مرجعِ تقلید ہیں، ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی ہماری ریڈ لائن ہے اور امریکا کو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے سفیر کو طلب کرکے ملت جعفریہ کا واضح پیغام پہنچائے کہ رہبرِ انقلاب کے خلاف کسی بھی شرارت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آخر میں مقررین نے اعلان کیا کہ 15 فروری بروز اتوار سانحہ اسلام آباد کے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت میں نمائش تا سی بریز ایم اے جناح روڈ کراچی تک عظیم الشان ریلی نکالی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید علی خامنہ ای پریس کانفرنس اسلام ا باد ملت جعفریہ کی جانب سے کر رہی ہیں ان کے خلاف اسلامی کے ا یت اللہ کے رہنما کہا کہ ا ہے اور
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔