بھارت-امریکا تجارتی معاہدے پر بھارتی کسانوں کا احتجاج، خدشات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بھارت میں کسان تنظیموں نے مجوزہ بھارت-امریکا تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کسان برادری کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے ملکی زراعت اور ڈیری سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارتی جریدے دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدہ یک طرفہ ہے اور اس سے امریکی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی میں زیادہ رسائی مل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کسانوں کو شدید مسابقت اور مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کسان یونینز نے کہا ہے کہ اگر موجودہ شرائط پر اس تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ بعض کسان تنظیموں نے بھارتی وزیرِ تجارت سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کو اعتماد میں نہیں لیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق مجوزہ تجارتی ڈیل کی موجودہ شرائط بھارتی زرعی شعبے، خصوصاً ڈیری انڈسٹری، کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی زرعی خود کفالت اور چھوٹے کسانوں کی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کسان تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کی شقوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور کسی بھی فیصلے سے قبل کسان نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔