Jasarat News:
2026-07-23@23:37:35 GMT

ٹرمپ: مودی تجارتی مفاہمت؛ فائدہ کس کا؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-9
ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے ساتھ اچانک تجارتی معاہدے کے اعلان نے جنوبی ایشیا کی سیاسی و معاشی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بظاہر یہ اعلان بھارتی منڈیوں اور کرنسی کے لیے وقتی سہارا ثابت ہوا، مگر اس کے ساتھ ہی اس معاہدے کی اصل قیمت، پس ِ پردہ شرائط اور طویل المدتی اثرات پر سوالات کی ایک لہر بھی اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی جہاں اسٹاک مارکیٹس میں بحالی کے آثار دکھائی دیے، وہیں سیاسی حلقوں، کسان تنظیموں اور سرمایہ کاروں میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے کہ آیا کم محصولات کے بدلے بھارت نے اپنے حساس معاشی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ رعایتیں تو نہیں دے دیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت اس وقت دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، جہاں اسے نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنے ہی ووٹر بیس، خاص طور پر کسان طبقے، کو مطمئن کرنے کی شدید ضرورت پیش آ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر ِ تجارت پیوش گوئل نے مختصر مدت میں دو مرتبہ وضاحت جاری کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کے زرعی مفادات، بالخصوص ڈیری سیکٹر، پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔ تاہم مسئلہ محض زبانی یقین دہانیوں تک محدود نہیں، اصل تشویش معاہدے کی تفصیلات کے عدم انکشاف سے جنم لے رہی ہے، جس نے چھوٹے کسانوں میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دیا ہے۔

بھارت میں زراعت محض ایک معاشی شعبہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حساسیت ہے۔ کروڑوں خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے اور یہی طبقہ کسی بھی حکومت کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں جب معاہدے کی شقیں خفیہ رکھی جائیں تو خدشات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ کسان تنظیموں کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور ممکنہ ہڑتال کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کی یقین دہانیاں زمینی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور پارلیمان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے معاہدے کو امریکی مفادات کے حق میں اور بھارتی کسانوں کے خلاف قرار دیا۔ راہول گاندھی کا یہ الزام کہ بھارتی کسانوں کی محنت اور قربانیوں کا سودا کر دیا گیا، سیاسی بیان بازی سے بڑھ کر اس عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو اس معاہدے نے پیدا کر دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ معاہدہ بظاہر اچانک نظر آنے کے باوجود، درحقیقت مہینوں کی خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ بلومبرگ کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے پس منظر میں یہ پیش رفت کسی فوری مصالحت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور محتاط حکمت ِ عملی کا ثمر ہے۔ ستمبر میں چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد مودی حکومت نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ امریکا کے ساتھ بڑھتی تلخی بھارت کے لیے سفارتی اور معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن بھیجا گیا تاکہ بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔

اجیت دوول کی امریکی وزیر ِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ اس میں بھارت کی جانب سے ایک واضح پیغام دیا گیا۔ دوول نے واشنگٹن کو باور کرایا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر سنجیدہ بات چیت چاہتا ہے، تاہم وہ دباؤ کی سیاست قبول نہیں کرے گا۔ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو بھارت ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم ہونے کا انتظار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا پر زور دیا گیا کہ وہ بھارت پر کھلی تنقید کم کرے تاکہ دوطرفہ تعلقات دوبارہ معمول پر آ سکیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت ٹرمپ کے سخت بیانات اور اگست میں عائد کیے گئے 50 فی صد محصولات پر شدید ناراض تھا۔

ٹرمپ کے وہ بیانات، جن میں انہوں نے بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا اور روسی تیل کی خریداری کو یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے جوڑا، بھارتی قیادت کے لیے سفارتی طور پر نہایت ناگوار تھے۔ ان بیانات نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچایا بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایسے میں یہ معاہدہ بظاہر ایک سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے اندر چھپے ممکنہ سمجھوتے اور رعایتیں ہی اصل تنازع کی جڑ ہیں۔ معاشی نقطہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ بھارت کے لیے برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے مواقع اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر زرعی اور ڈیری شعبوں کو مکمل تحفظ حاصل نہ رہا تو دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کا ڈیری سیکٹر نہ صرف لاکھوں چھوٹے کسانوں کا سہارا ہے بلکہ یہ ایک سماجی تحفظ کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ امریکی زرعی مصنوعات کی ممکنہ آمد اور مسابقت اگر بے لگام ہوئی تو اس کا اثر براہِ راست ان کسانوں پر پڑے گا جو پہلے ہی قرضوں اور موسمی تبدیلیوں کے دباؤ کا شکار ہیں۔

سیاسی اعتبار سے یہ معاہدہ مودی حکومت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف اسے عالمی سطح پر امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، دوسری جانب اندرونِ ملک اس پر اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اگر حکومت معاہدے کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے نہیں لاتی تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن اور احتجاجی تحریکیں اٹھا سکتی ہیں۔ یوں یہ تجارتی معاہدہ محض اقتصادی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی، داخلی سیاست اور سماجی توازن کا امتحان بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ معاہدہ واقعی بھارت کے لیے معاشی استحکام اور عالمی شراکت داری کا ذریعہ بنتا ہے یا پھر کسانوں کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ سیاسی و سماجی سطح پر ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس معاہدے نے بھارت میں یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن کہاں تک ممکن ہے اور قومی مفادات کی سرخ لکیر کہاں کھینچی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کے ساتھ یہ معاہدہ معاہدے کی بھارت کے کہ بھارت ثابت ہو سکتا ہے دیا گیا کے لیے میں یہ دیا ہے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل