ٹرمپ: مودی تجارتی مفاہمت؛ فائدہ کس کا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-04-9
ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے ساتھ اچانک تجارتی معاہدے کے اعلان نے جنوبی ایشیا کی سیاسی و معاشی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بظاہر یہ اعلان بھارتی منڈیوں اور کرنسی کے لیے وقتی سہارا ثابت ہوا، مگر اس کے ساتھ ہی اس معاہدے کی اصل قیمت، پس ِ پردہ شرائط اور طویل المدتی اثرات پر سوالات کی ایک لہر بھی اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی جہاں اسٹاک مارکیٹس میں بحالی کے آثار دکھائی دیے، وہیں سیاسی حلقوں، کسان تنظیموں اور سرمایہ کاروں میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے کہ آیا کم محصولات کے بدلے بھارت نے اپنے حساس معاشی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ رعایتیں تو نہیں دے دیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت اس وقت دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، جہاں اسے نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنے ہی ووٹر بیس، خاص طور پر کسان طبقے، کو مطمئن کرنے کی شدید ضرورت پیش آ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر ِ تجارت پیوش گوئل نے مختصر مدت میں دو مرتبہ وضاحت جاری کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کے زرعی مفادات، بالخصوص ڈیری سیکٹر، پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔ تاہم مسئلہ محض زبانی یقین دہانیوں تک محدود نہیں، اصل تشویش معاہدے کی تفصیلات کے عدم انکشاف سے جنم لے رہی ہے، جس نے چھوٹے کسانوں میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دیا ہے۔
بھارت میں زراعت محض ایک معاشی شعبہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حساسیت ہے۔ کروڑوں خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے اور یہی طبقہ کسی بھی حکومت کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں جب معاہدے کی شقیں خفیہ رکھی جائیں تو خدشات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ کسان تنظیموں کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور ممکنہ ہڑتال کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کی یقین دہانیاں زمینی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور پارلیمان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے معاہدے کو امریکی مفادات کے حق میں اور بھارتی کسانوں کے خلاف قرار دیا۔ راہول گاندھی کا یہ الزام کہ بھارتی کسانوں کی محنت اور قربانیوں کا سودا کر دیا گیا، سیاسی بیان بازی سے بڑھ کر اس عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو اس معاہدے نے پیدا کر دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ معاہدہ بظاہر اچانک نظر آنے کے باوجود، درحقیقت مہینوں کی خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ بلومبرگ کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے پس منظر میں یہ پیش رفت کسی فوری مصالحت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور محتاط حکمت ِ عملی کا ثمر ہے۔ ستمبر میں چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد مودی حکومت نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ امریکا کے ساتھ بڑھتی تلخی بھارت کے لیے سفارتی اور معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن بھیجا گیا تاکہ بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔
اجیت دوول کی امریکی وزیر ِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ اس میں بھارت کی جانب سے ایک واضح پیغام دیا گیا۔ دوول نے واشنگٹن کو باور کرایا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر سنجیدہ بات چیت چاہتا ہے، تاہم وہ دباؤ کی سیاست قبول نہیں کرے گا۔ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو بھارت ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم ہونے کا انتظار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا پر زور دیا گیا کہ وہ بھارت پر کھلی تنقید کم کرے تاکہ دوطرفہ تعلقات دوبارہ معمول پر آ سکیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت ٹرمپ کے سخت بیانات اور اگست میں عائد کیے گئے 50 فی صد محصولات پر شدید ناراض تھا۔
ٹرمپ کے وہ بیانات، جن میں انہوں نے بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا اور روسی تیل کی خریداری کو یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے جوڑا، بھارتی قیادت کے لیے سفارتی طور پر نہایت ناگوار تھے۔ ان بیانات نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچایا بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایسے میں یہ معاہدہ بظاہر ایک سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے اندر چھپے ممکنہ سمجھوتے اور رعایتیں ہی اصل تنازع کی جڑ ہیں۔ معاشی نقطہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ بھارت کے لیے برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے مواقع اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر زرعی اور ڈیری شعبوں کو مکمل تحفظ حاصل نہ رہا تو دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کا ڈیری سیکٹر نہ صرف لاکھوں چھوٹے کسانوں کا سہارا ہے بلکہ یہ ایک سماجی تحفظ کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ امریکی زرعی مصنوعات کی ممکنہ آمد اور مسابقت اگر بے لگام ہوئی تو اس کا اثر براہِ راست ان کسانوں پر پڑے گا جو پہلے ہی قرضوں اور موسمی تبدیلیوں کے دباؤ کا شکار ہیں۔
سیاسی اعتبار سے یہ معاہدہ مودی حکومت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف اسے عالمی سطح پر امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، دوسری جانب اندرونِ ملک اس پر اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اگر حکومت معاہدے کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے نہیں لاتی تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن اور احتجاجی تحریکیں اٹھا سکتی ہیں۔ یوں یہ تجارتی معاہدہ محض اقتصادی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی، داخلی سیاست اور سماجی توازن کا امتحان بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ معاہدہ واقعی بھارت کے لیے معاشی استحکام اور عالمی شراکت داری کا ذریعہ بنتا ہے یا پھر کسانوں کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ سیاسی و سماجی سطح پر ایک نئے بحران کو جنم دیتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس معاہدے نے بھارت میں یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن کہاں تک ممکن ہے اور قومی مفادات کی سرخ لکیر کہاں کھینچی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا کے ساتھ یہ معاہدہ معاہدے کی بھارت کے کہ بھارت ثابت ہو سکتا ہے دیا گیا کے لیے میں یہ دیا ہے
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔