ملکی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سازشوں کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائےگا، علما و مشائخ کونسل
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیر صدارت علما و مشائخ کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان اور ریاست کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مذہب کے نام پر دہشتگردی اسلام کے خلاف ہے، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف
اجلاس کے شرکا نے ماہِ رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر قوم کو صبر، تقویٰ اور باہمی ہمدردی کا پیغام دیتے ہوئے اپیل کی کہ منبر و محراب کے ذریعے بین المسالک ہم آہنگی اور اخلاقی تربیت کو فروغ دیا جائے، تاکہ دشمن کی تفرقہ انگیزی پر مبنی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عبادت گاہوں میں بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ آئینی اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
شرکا نے فتنہ الخوارج کی گمراہ کن سوچ اور دہشتگردی کے تمام بیانیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی اندرونی و بیرونی سازشوں کا ہر سطح پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
علما و مشائخ نے اپنے خطبات اور مدارس کے ذریعے امن، رواداری اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنے اور نوجوان نسل کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔
اجلاس میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انتظامیہ اور مقامی انتظامی کمیٹیوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
علما و مشائخ نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور شہداء کے خاندانوں کی معاونت کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں ملک بھر میں نماز کے یکساں اوقات (نظامِ صلوٰۃ) کے نفاذ کے لیے علما کے تعاون کو سراہا گیا اور اس نظام کو مزید مؤثر انداز میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی مصری ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات
تمام مکاتبِ فکر کے علما نے مذہبی رہنمائی اور باہمی تعاون کے ذریعے فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی بیانیوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ پوری قوم، علما اور مشائخ حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اخلاقی تربیت بین المذاہب ہم آہنگی سردار یوسف علما و مشائخ کونسل وزیر مذہبی امور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اخلاقی تربیت بین المذاہب ہم ا ہنگی سردار یوسف علما و مشائخ کونسل وی نیوز کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔