اسلام آباد(نیوزڈیسک)اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن حکام کے مطابق یو اے ای، عمان اور ملائشیا کی جانب سے غیر اعلانیہ پابندیوں کے باعث پاکستانیوں کو ویزا ملنے میں مشکلات کا سامنا ہیں۔ یو اے ای نے پاکستانی افرادی قوت پر سوال اٹھایا تھا کہ ان کو سوشل میڈیا کااستعمال نہیں آتا۔

ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اوورسیز پاکستانیز کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران اراکین نے پوچھا کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو سافٹ اسکلز دینے کا مقصد اور فائدہ کیا ہے؟ جس پر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے حکام نے بتایا یورپی یونین کے تمام ممالک میں سافٹ اسکلز کا سرٹیفکیٹ تسلیم کیا جاتا ہے، سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ پانچ روز کی فزیکل اور آن لائن ٹریننگ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ہم مفت سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں، 4 لاکھ 8 ہزار افراد زیر تعلیم ہیں، اس پروگرام پر 30 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ او پی ایف حکام نے بتایا سالانہ ساڑھے 7 لاکھ افراد بیرون ملک ملازمت کے لئے جاتے ہیں، 1971 سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بیرون ملک گئے ،اگر ایک شہری کو دو یا تین بار پروٹیکٹر جاری ہوا تو اسے بھی شامل کیا جاتا ہے، حکام نے بتایا اسلام آباد اور پنجاب میں اوورسیز پاکستانیز کے لئے عدالتوں کا قیام ہوچکا ہے۔

اوورسیز پاکستانیز کا پاکستان میں بیماری کی صورت میں مفت علاج ہوگا،اوورسیز پاکستانیز کو سیکیورٹی،رینٹ کار اور ہوٹلوں میں 50 فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں، حکام کے مطابق ہر سال اوورسیز پاکستانیز کا کنونشن پاکستان میں ہوگا ،کمیٹی رکن شہادت اعوان نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کی اسکیم سندھ، بلوچستان اور کے پی میں نہیں، اسلام آباد اور لاہور میں بھی ہاؤسنگ اسکیمیں زیر التوا ہیں، کمیٹی نے تارکین وطن کیلئے جاری منصوبوں پر آئندہ اجلاس میں بریفنگ طلب کرلی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان