ورلڈ ڈیفنس شو: خواجہ آصف کا مختلف اسٹالز کا دورہ، شرکاء کی جے ایف17 طیارے میں غیر معمولی دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے ''ورلڈ ڈیفنس شو'' کے موقع پر پاکستانی اور سعودی عرب کی دفاعی کمپنیوں کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا جبکہ نمائش میں شرکاء نے پاکستان کے جے ایفـ17 تھنڈر لڑاکا طیارے میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور سیکریٹری وزارتِ دفاعی پیداوار جنرل چراغ حیدر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیرِ دفاع نے جدید دفاعی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کا جائزہ لیا جبکہ وزیر دفاع نے دفاعی صنعت سے وابستہ نمائندگان سے ملاقاتیں کیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے ریاض میں عالمی نمائش کے موقع پر اپنے سعودی ہم منصب خالد بن سلمان سے ملاقات کی اور سعودی قیادت کو ''ورلڈ ڈیفنس شو'' کے کامیاب اور شاندار انعقاد پر مبارکباد دی۔ خواجہ آصف نے اس عالمی دفاعی ایونٹ کو خطے میں دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش میں پاکستان فضائیہ کے جے ایفـ17 تھنڈر نے شرکا اور دفاعی ماہرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے، اور یہ امریکا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے نمائش کے لیے پیش کیے گئے لڑاکا طیاروں میں نمایاں رہا ہے۔واضح رہے کہ پانچ روزہ دفاعی نمائش 12 فروری تک جاری رہے گی جس میں پاکستان بھی شریک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔