نیٹ میٹرنگ کا نیا بلنگ نظام متعارف، ٹیرف کا اعلان بھی کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ سے متعلق اصلاحات، وزیر توانائی اویس لغاری کا اہم بیان سامنے آگیا
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی ریگولیشنز میں نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے اور اب یہ ریگولیشنز بائیوگیس صارفین پر بھی لاگو ہوں گی۔
ریگولیشنز کے تحت بلنگ سائیکل کے اختتام پر صارفین کو بل جاری کیا جائے گا اور نیٹ میٹرنگ صارفین سے نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق بجلی خریدی جائے گی۔
موجودہ ٹیرف کے حساب سے صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی پر صارفین کو سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ میں مجوزہ تبدیلیاں، سولر صارفین کس حد تک متاثر ہوں گے؟
نیٹ میٹرنگ کے لیے معاہدے کی مدت 5 سال مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد معاہدہ مزید 5 سال کے لیے تجدید کیا جا سکتا ہے۔ نئی ریگولیشنز کے نفاذ کے بعد 2015 کی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز معطل ہو جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیرف کا اعلان نیا بلنگ نظام نیٹ میٹرنگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیرف کا اعلان نیا بلنگ نظام نیٹ میٹرنگ وی نیوز نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔