نقلی پسٹل دیکھا کر شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مبشر حسین: کراچی پولیس نے شاہ لطیف کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے نقلی پسٹل کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے والے 2ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک عدد نقلی پسٹل اور چھینی گئی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
بسنت پر 20 ارب کا کاروبار ہوا؛ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کی ٹیم نے انٹیلی جنس کی بنیادوں شاہ لطیف کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی جس کے نتیجے میں نقلی پسٹل کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے والے کم عمر 2ملزمان کو گرفتارکرلیا گیا،ملزمان کی شناخت اویس اور محمد مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ نقلی پسٹل کے ذریعے شہریوں کو ڈرا دھمکا کر قیمتی سامان لوٹتے تھے۔ملزمان بالخصوص خواتین اور بزرگ شہریوں کو آسان ہدف بنا کر وارداتیں کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان نے کئی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے درگاہ میں نماز پڑھنے اورعید پر قربانی کرنے سے روک دیا
ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ کم عمری کے باوجود ملزمان شہریوں کو لوٹنے جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے، گرفتار دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ایڈن ایونیو ایکسٹنشن کے نومنتخب عہدیداران نے حلف اٹھالیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کراچی نقلی پسٹل شہریوں لوٹنے گرفتار نقلی پسٹل کراچی شہریوں لوٹنے نقلی پسٹل شہریوں شہریوں گرفتار شہریوں لوٹنے گرفتار گرفتار شہریوں کو لوٹنے نقلی پسٹل
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔