مسجد دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنےآگئی، خودکش حملہ آور کا چہرہ بھی واضح
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو فائرنگ کرنے کے بعد بھاگ کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع مسجد میں جمعے کے روز ہونے والے دھماکے کے وقت کی ایک اور سی سی ٹی فوٹیج سامنے آگئی جس میں حملہ آور کو امام بارگاہ میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو فائرنگ کرنے کے بعد بھاگ کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد ترلائی کلاں خود کش حملے کی مزید ویڈیو سامنے آگئی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور پیدل چل کر مسجد تک پہنچا اور گیٹ کے قریب پہنچتے ہی فائرنگ شروع کردی۔ امام بارگاہ کے اندر دھماکے کے بعد باہر شہریوں کو بھاگتے ہوئے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہا ہے اور امام بارگاہ کو بھی واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
2 روز قبل ترلائی کلاں خود کُش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی جب کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر حملے کا ماسٹر مائنڈ اور تین سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے نتیجے میں کیے گئے، حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور تین زخمی ہوگئے۔
ذرائع نے کہا تھا کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسر تھا جو کہ پشاور کا رہائشی تھا، حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، وہ ایک ہفتے پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، وہ افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کے لیے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔ حملہ آور نے 4 سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں، تمام گولیوں کو خول جائے وقوع سے مل گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی سی ٹی وی فوٹیج امام بارگاہ فوٹیج میں حملہ آور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔