Islam Times:
2026-06-02@22:08:18 GMT

ایران کا اسلامی انقلاب

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ایران کا اسلامی انقلاب

اسلام ٹائمز: اگر آپ پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی توسیع پسندی اور امریکی بالا دستی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حقیقی طور پر موجود ہے تو وہ یہ تحریکیں ہیں، جنکے پیچھے اسلامی جمہوری ایران کھڑا ہے۔ اسی طرح کشمیر، یمن اور عراق میں بھی مزاحمتی تحریکوں کو انقلاب اسلامی نے بہت حوصلہ دیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ استعماری و استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایران کو ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس نے مزاحت کو ایک نظریہ میں بدل کر ایک عملی قوت بنا دیا ہے اور عالمی سیاست میں استکبار مخالف ایک طاقتور قلعہ کی تعمیر کی ہے، جس کی دیواریں نہایت مظبوط و مستحکم ہیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان

ایران میں فروری 1979ء کو ایسا عظیم انقلاب رونما ہوا، جس نے اس ملک کو اسلامی جمہوری ایران بنا دیا۔ انقلاب اسلامی کو ہم مختلف جہتوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے جب ہم اسلامی انقلاب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے صدیوں پر محیط بادشاہت کو ایران سے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ رضا شاہ پہلوی مغرب کا نمائندہ اپنی بادشاہت کو نہ بچا سکا۔ ایک مادر پدر آزاد بادشاہت ختم ہوگئی اور ایران "اسلامی جمہوری ایران" بن گیا۔ جب ہم تاریخی تناظر میں دنیا میں بپا ہونے والے مختلف انقلابات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ انقلاب دنیا کے چند انقلابات میں سے ایک ہے کہ جس نے ریاست کو ایک مکمل مذہبی بنیاد فراہم کی۔ اس نے ایران کو مغربی اثر و رسوخ سے کافی حد تک آزاد کرکے اسے ایک خود مختار خارجہ پالیسی عطا کی۔

سماجی و مذہبی اعتبار سے اگر اسے دیکھا جائے تو یہ انقلاب ہمیں اسلامی شناخت، خوداری اور سماجی انصاف کی علامت نظر آتا ہے۔ اس انقلاب نے مشرق وسطی کی سیاست کو بھی بہت گہرائی میں جا کر متاثر کیا۔ خطے میں طاقت کے توازن کو بدلا اور ایران کو ایک اہم اسلامی ملک کی شناخت دی۔ اگر دیگر انقلابات پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہمیں یک رخے یا چند رخے نظر آتے ہیں۔ مگر ایران کا اسلامی انقلاب، انقلاب مدینہ کی طرح ہمہ جہت ہے۔ اس نے ایران کے سماج، سیاست، معیشت اور معاشرت پر بہت مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ یہ انقلاب بہت سی جہتوں سے عصر حاضر کا کامیاب انقلاب ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ ایک نہایت مستحکم مغربی حمایت یافتہ حکومت کو عوام اور مذہب کی طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس نے اسلامی دنیا میں خود مختاری، مزاحمت اور اسلامی شناخت کو ایک نئی جان دی۔ خطے کی کئی اسلامی تحریکیں اس سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔

اس عظیم انقلاب نے اسلامی جمہوری ایران کی اہمیت کو چار چاند لگا دیئے۔ آج ایران خطے، خصوصاً مشرق وسطی کی ایک بڑی اور اہم علاقی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انقلاب اسلامی کا شام، عراق، یمن اور لبنان میں سیاسی و عسکری اثر بالکل واضح نظر آتا ہے۔ اس خطے میں اگر اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں ہمیں ایک مضبوط مزاحمتی بلاک نظر آتا ہے تو وہ اسلامی انقلاب کا ہی ثمر ہے۔ انقلاب اسلامی نے ایران کے سیاسی نظام کو بھی بہت استحکام عطا کیا ہے۔ شدید اقتصادی پابندیوں اور کئی جنگوں کے باوجود اس ملک کے ریاستی ادارے اگر مضبوط ہیں اور اقتدار کا تسلسل موجود ہے تو وہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہی ہے۔ ایران نے صحت، تعلیم، سائنس اور صنعت و حرفت میں نمایاں ترقی کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوری ایران میں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں کرنسی کا ایک بڑا اور خوفناک قسم کا بحران بھی موجود ہے، جس کو ان حالیہ مظاہروں میں دیکھا گیا۔ اس معاشی بحران کی وجہ سے نوجوان نسل میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ بحران انقلاب اسلامی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ ان اقتصادی پابندیوں کا شاخسانہ ہے، جو مغرب اور امریکہ نے ناجائز طور پر اسلامی جمہوری ایران پر نافذ کر رکھی ہیں۔ اس لیے اس معاشی بحران کی اصل وجہ مغرب اور امریکہ کی اسلام دشمنی ہے، نہ کہ اسلامی انقلاب کی کوئی خامی۔ اسلامی انقلاب کا نمایاں پہلو استعمار اور صیہونیت کے مقابلے میں مظلومین جہاں کی نصرت و حمایت ہے۔ اس حمایت نے استعماری اور استحصالی قوتوں کے مقابلے میں مظلومین جہاں کو ایک فعال، قابل عمل اور بین الاقوامی بیانیہ دیا ہے۔

انقلاب اسلامی ایران نے مظلوموں کو حوصلہ دیا ہے کہ اگر وہ منظم ہو جائیں تو وہ دنیا کے طاقتور ممالک اور نظاموں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے انقلاب اسلامی کے نعرے "لا شرقیہ ولا غربیہ" نے اسلامی دنیا میں مزاحمت کو ایک نئی جان دی ہے۔ خصوصاً جب ہم فلسطین اور لبنان میں مزاحمتی تحریکوں کو دیکھتے ہیں تو یہاں انقلاب اسلامی کا رسوخ بہت گہرا اور موثر نظر آتا ہے۔ ایران نے فلسطین کی مزاحمت کو اخلاقی، سیاسی اور عملی حمایت دی ہے۔ ایران نے حماس اور دیگر اسلامی جہادی تحریکوں کو کھل کر مدد کی اور ان کی صلاحیتوں میں بہت اضافہ کیا۔ آج اگر یہ تحریکیں میدان جنگ میں کھڑی ہیں تو ان کے پیچھے ایران ہے۔ مسئلہ فلسطین آج اگر زندہ ہے تو یہ اسلامی جمہوری ایران کی محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اللہ کے پائوں مضبوط ہیں تو یہ بھی اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہیں۔

اگر آپ پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی توسیع پسندی اور امریکی بالا دستی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حقیقی طور پر موجود ہے تو وہ یہ تحریکیں ہیں، جن کے پیچھے اسلامی جمہوری ایران کھڑا ہے۔ اسی طرح کشمیر، یمن اور عراق میں بھی مزاحمتی تحریکوں کو انقلاب اسلامی نے بہت حوصلہ دیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ استعماری و استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایران کو ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس نے مزاحت کو ایک نظریہ میں بدل کر ایک عملی قوت بنا دیا ہے اور عالمی سیاست میں استکبار مخالف ایک طاقتور قلعہ کی تعمیر کی ہے، جس کی دیواریں نہایت مظبوط و مستحکم ہیں۔

اسلامی انقلاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نظریہ مضبوط ہو اور قیادت مخلص ہو اور عوام قربانی دینے والی ہو تو کسی بھی مضبوط نظام کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہ انقلاب دنیا کے آمرانہ نظاموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک خوبصورت رول ماڈل بن سکتا ہے۔ اس انقلاب نے اسلامی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام کو آج بھی ریاستی نظام کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اگر اس انقلاب پر ایک مخصوص مکتب فکر کی چھاپ نہ لگتی تو آج یہ کئی اسلامی ممالک میں رائج ہوتا۔ بہرحال یہ انقلاب آج بھی عالم اسلام کے لیے ایک بڑی روشنی کی کرن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران انقلاب اسلامی اسلامی انقلاب کے مقابلے میں تحریکوں کو نظر ا تا ہے یہ انقلاب انقلاب نے نے اسلامی کی وجہ سے ایران کو ایران نے انقلاب ا موجود ہے ہے تو وہ میں اگر کو ایک ہیں تو دیا ہے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا