اسلام ٹائمز: اگر آپ پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی توسیع پسندی اور امریکی بالا دستی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حقیقی طور پر موجود ہے تو وہ یہ تحریکیں ہیں، جنکے پیچھے اسلامی جمہوری ایران کھڑا ہے۔ اسی طرح کشمیر، یمن اور عراق میں بھی مزاحمتی تحریکوں کو انقلاب اسلامی نے بہت حوصلہ دیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ استعماری و استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایران کو ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس نے مزاحت کو ایک نظریہ میں بدل کر ایک عملی قوت بنا دیا ہے اور عالمی سیاست میں استکبار مخالف ایک طاقتور قلعہ کی تعمیر کی ہے، جس کی دیواریں نہایت مظبوط و مستحکم ہیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
ایران میں فروری 1979ء کو ایسا عظیم انقلاب رونما ہوا، جس نے اس ملک کو اسلامی جمہوری ایران بنا دیا۔ انقلاب اسلامی کو ہم مختلف جہتوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے جب ہم اسلامی انقلاب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے صدیوں پر محیط بادشاہت کو ایران سے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ رضا شاہ پہلوی مغرب کا نمائندہ اپنی بادشاہت کو نہ بچا سکا۔ ایک مادر پدر آزاد بادشاہت ختم ہوگئی اور ایران "اسلامی جمہوری ایران" بن گیا۔ جب ہم تاریخی تناظر میں دنیا میں بپا ہونے والے مختلف انقلابات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ انقلاب دنیا کے چند انقلابات میں سے ایک ہے کہ جس نے ریاست کو ایک مکمل مذہبی بنیاد فراہم کی۔ اس نے ایران کو مغربی اثر و رسوخ سے کافی حد تک آزاد کرکے اسے ایک خود مختار خارجہ پالیسی عطا کی۔
سماجی و مذہبی اعتبار سے اگر اسے دیکھا جائے تو یہ انقلاب ہمیں اسلامی شناخت، خوداری اور سماجی انصاف کی علامت نظر آتا ہے۔ اس انقلاب نے مشرق وسطی کی سیاست کو بھی بہت گہرائی میں جا کر متاثر کیا۔ خطے میں طاقت کے توازن کو بدلا اور ایران کو ایک اہم اسلامی ملک کی شناخت دی۔ اگر دیگر انقلابات پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہمیں یک رخے یا چند رخے نظر آتے ہیں۔ مگر ایران کا اسلامی انقلاب، انقلاب مدینہ کی طرح ہمہ جہت ہے۔ اس نے ایران کے سماج، سیاست، معیشت اور معاشرت پر بہت مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ یہ انقلاب بہت سی جہتوں سے عصر حاضر کا کامیاب انقلاب ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ ایک نہایت مستحکم مغربی حمایت یافتہ حکومت کو عوام اور مذہب کی طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس نے اسلامی دنیا میں خود مختاری، مزاحمت اور اسلامی شناخت کو ایک نئی جان دی۔ خطے کی کئی اسلامی تحریکیں اس سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔
اس عظیم انقلاب نے اسلامی جمہوری ایران کی اہمیت کو چار چاند لگا دیئے۔ آج ایران خطے، خصوصاً مشرق وسطی کی ایک بڑی اور اہم علاقی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انقلاب اسلامی کا شام، عراق، یمن اور لبنان میں سیاسی و عسکری اثر بالکل واضح نظر آتا ہے۔ اس خطے میں اگر اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں ہمیں ایک مضبوط مزاحمتی بلاک نظر آتا ہے تو وہ اسلامی انقلاب کا ہی ثمر ہے۔ انقلاب اسلامی نے ایران کے سیاسی نظام کو بھی بہت استحکام عطا کیا ہے۔ شدید اقتصادی پابندیوں اور کئی جنگوں کے باوجود اس ملک کے ریاستی ادارے اگر مضبوط ہیں اور اقتدار کا تسلسل موجود ہے تو وہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہی ہے۔ ایران نے صحت، تعلیم، سائنس اور صنعت و حرفت میں نمایاں ترقی کی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوری ایران میں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں کرنسی کا ایک بڑا اور خوفناک قسم کا بحران بھی موجود ہے، جس کو ان حالیہ مظاہروں میں دیکھا گیا۔ اس معاشی بحران کی وجہ سے نوجوان نسل میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ بحران انقلاب اسلامی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ ان اقتصادی پابندیوں کا شاخسانہ ہے، جو مغرب اور امریکہ نے ناجائز طور پر اسلامی جمہوری ایران پر نافذ کر رکھی ہیں۔ اس لیے اس معاشی بحران کی اصل وجہ مغرب اور امریکہ کی اسلام دشمنی ہے، نہ کہ اسلامی انقلاب کی کوئی خامی۔ اسلامی انقلاب کا نمایاں پہلو استعمار اور صیہونیت کے مقابلے میں مظلومین جہاں کی نصرت و حمایت ہے۔ اس حمایت نے استعماری اور استحصالی قوتوں کے مقابلے میں مظلومین جہاں کو ایک فعال، قابل عمل اور بین الاقوامی بیانیہ دیا ہے۔
انقلاب اسلامی ایران نے مظلوموں کو حوصلہ دیا ہے کہ اگر وہ منظم ہو جائیں تو وہ دنیا کے طاقتور ممالک اور نظاموں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے انقلاب اسلامی کے نعرے "لا شرقیہ ولا غربیہ" نے اسلامی دنیا میں مزاحمت کو ایک نئی جان دی ہے۔ خصوصاً جب ہم فلسطین اور لبنان میں مزاحمتی تحریکوں کو دیکھتے ہیں تو یہاں انقلاب اسلامی کا رسوخ بہت گہرا اور موثر نظر آتا ہے۔ ایران نے فلسطین کی مزاحمت کو اخلاقی، سیاسی اور عملی حمایت دی ہے۔ ایران نے حماس اور دیگر اسلامی جہادی تحریکوں کو کھل کر مدد کی اور ان کی صلاحیتوں میں بہت اضافہ کیا۔ آج اگر یہ تحریکیں میدان جنگ میں کھڑی ہیں تو ان کے پیچھے ایران ہے۔ مسئلہ فلسطین آج اگر زندہ ہے تو یہ اسلامی جمہوری ایران کی محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اللہ کے پائوں مضبوط ہیں تو یہ بھی اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہیں۔
اگر آپ پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی توسیع پسندی اور امریکی بالا دستی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حقیقی طور پر موجود ہے تو وہ یہ تحریکیں ہیں، جن کے پیچھے اسلامی جمہوری ایران کھڑا ہے۔ اسی طرح کشمیر، یمن اور عراق میں بھی مزاحمتی تحریکوں کو انقلاب اسلامی نے بہت حوصلہ دیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ استعماری و استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایران کو ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس نے مزاحت کو ایک نظریہ میں بدل کر ایک عملی قوت بنا دیا ہے اور عالمی سیاست میں استکبار مخالف ایک طاقتور قلعہ کی تعمیر کی ہے، جس کی دیواریں نہایت مظبوط و مستحکم ہیں۔
اسلامی انقلاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نظریہ مضبوط ہو اور قیادت مخلص ہو اور عوام قربانی دینے والی ہو تو کسی بھی مضبوط نظام کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہ انقلاب دنیا کے آمرانہ نظاموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک خوبصورت رول ماڈل بن سکتا ہے۔ اس انقلاب نے اسلامی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام کو آج بھی ریاستی نظام کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اگر اس انقلاب پر ایک مخصوص مکتب فکر کی چھاپ نہ لگتی تو آج یہ کئی اسلامی ممالک میں رائج ہوتا۔ بہرحال یہ انقلاب آج بھی عالم اسلام کے لیے ایک بڑی روشنی کی کرن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوری ایران انقلاب اسلامی اسلامی انقلاب کے مقابلے میں تحریکوں کو نظر ا تا ہے یہ انقلاب انقلاب نے نے اسلامی کی وجہ سے ایران کو ایران نے انقلاب ا موجود ہے ہے تو وہ میں اگر کو ایک ہیں تو دیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔