اسرائیلی مداخلت ناقابلِ قبول، صومالی لینڈ میں صیہونی فوجی اڈے کی اجازت نہیں دیں گے، صدر حسن شیخ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
موغادیشو:صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے داخلی معاملات میں مبینہ مداخلت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا علیحدگی پسند خطے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہا ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، صومالیہ کسی بھی صورت سومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔
عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صومالی صدر نے کہا کہ اسرائیل کی سفارتی اور عسکری حکمت عملی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ پورے قرنِ افریقا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اگر اسرائیل نے سومالی لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی تو صومالیہ اس کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔
صدر حسن شیخ محمود نے خبردار کیا کہ مجوزہ اسرائیلی فوجی اڈا صرف صومالیہ ہی نہیں بلکہ پڑوسی ممالک کے خلاف بھی جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جس سے پورا خطہ بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، صومالیہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق لڑیں گے، ظاہر ہے ہم اپنا دفاع کریں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی بھی اسرائیلی فورس کا سامنا کریں گے جو یہاں آنے کی کوشش کرے گی کیونکہ ہم اس کے خلاف ہیں اور ہم ہرگز اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
صومالی صدر نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے، اس طرح کے فیصلے نہ صرف صومالیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ افریقی خطے میں علیحدگی پسندی کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔
صدر حسن شیخ محمود کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ دسمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر خطے بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سومالی لینڈ صومالیہ کا ایک علیحدگی پسند علاقہ ہے جو خود کو آزاد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی اکثریت اسے صومالیہ کا حصہ تسلیم کرتی ہے۔
سومالی لینڈ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے قریب واقع ہے اور قرنِ افریقا میں اس کی جغرافیائی حیثیت کے باعث اسے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے، اسرائیل کا یہ فیصلہ اسے دنیا کا پہلا ملک بناتا ہے جس نے سومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس رپورٹ کے چند ماہ بعد سامنے آئی تھی جس میں خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے سومالی لینڈ کے بعض عہدیداروں سے رابطہ کیا تھا تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لیے اس علاقے کے استعمال پر بات چیت کی جا سکے۔ اگرچہ اسرائیل اور سومالی لینڈ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جنوری میں سومالی لینڈ کی وزارتِ خارجہ و بین الاقوامی تعاون کے ایک اہلکار نے اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام پر بات ہو رہی ہے اور یہ معاملہ زیرِ غور ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سومالی لینڈ کہ اسرائیل کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔