انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مختلف مثبت عوامل کے باعث نٹربینک مارکیٹ میں پیر کو مسلسل 96ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا، تاہم اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
آئی ایم ایف کی مقررہ 5شرائط میں سے 3 مالیاتی شرائط پوری ہونے سے 1ارب ڈالر کی اگلی قسط کی راہ ہموار ہونے، عالمی بینک کی سربراہ کا پاکستان کے لیے 20ارب ڈالر کے 10سالہ ترقیاتی پیکیج کی حمایت اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کی ڈیلز سے انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو مسلسل 96ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا تاہم اسکے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
معاشی استحکام کی جانب بامعنی پیشرفت، موثر مالیاتی انتظام، کلیدی اقتصادی شعبوں میں بتدریج بحالی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیئے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 25پیسے کی کمی سے 279روپے 46پیسے کی سطح پر آگئی تھی۔
مزید پڑھیںامریکا: ماں سے متعلق خواب نے خاتون کو ہزاروں ڈالر جتوا دیے
روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے، برطانوی اخبار کا دعویٰ
لیکن سپلائی میں بہتری رونما ہوتے ہی درآمدی ضروریات کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 279روپے 70پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ جبکہ اسکے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 280 روپے 75پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔ میکرو اکنامک حالات مجموعی طور پر بہتر ہونے۔
مالی سال 26ء اور 27ء کے بیشتر مدت میں مہنگائی کی شرح 5 تا 7فیصد کے مقررہ ہدف میں رہنے کی پیش گوئی، سال 26ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان، سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور جون 2026 تک زرِمبادلہ کے سرکاری ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقعات انٹربینک مارکیٹ کی سرگرمیوں پر اثرانداز رہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی انٹربینک مارکیٹ ڈالر کی قدر
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔