data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی انتظامیہ نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے اگلے اجلاس میں سنجیدہ اور بامعنی مواد کے ساتھ شرکت کی توقع رکھتی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق سیاسی دباؤ اور بالواسطہ پیغامات کے تبادلے کے درمیان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران سے سخت توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جوہری فائل سے ہٹ کر اضافی پابندیاں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

اسرائیلی چینل 15 کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے اگلے اجلاس میں سنجیدہ اور بامعنی مواد کے ساتھ شرکت کی توقع رکھتی ہے۔ چینل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ مذاکرات کے اگلے دور میں مختلف امور پر تہران کی جانب سے رعایتیں پیش کیے جانے کا منتظر ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی چینل 13 نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں میزائلوں کی حد مقرر کرنے سے متعلق شق شامل کی جائے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکراتی فریم ورک کو وسعت دے کر جوہری فائل کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل پروگرام کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔

یہ پیش رفت برسوں کے تناؤ اور باہمی کشیدگی کے بعد ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل پر بحث کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کی بحالی کے سائے میں سامنے آئی ہے۔

امریکہ بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ مضبوط اور طویل مدتی ہونا چاہیے، جبکہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے سے انکار کرتا رہا ہے اور اسے اپنا دفاعی معاملہ قرار دیتا ہے۔

اسرائیلی موقف بنجمن نیتن یاھو کے ان گذشتہ انتباہات سے میل کھاتا ہے جن میں انہوں نے کئی مواقع پر مطالبہ کیا تھا کہ صرف جوہری پہلو پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان علاقائی خطرات کا بھی تدارک کیا جائے جن کا ذکر اسرائیل کرتا رہتا ہے، اور ان میں سرفہرست بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ہے۔

مغربی رپورٹس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ فریقین کے مابین موقف میں فرق اور امریکہ و ایران کے اندرونی سیاسی دباؤ کے پیش نظر مذاکرات کا اگلا دور پیش رفت کے امکانات کے حوالے سے ایک فیصلہ کن امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار