ایران میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کو قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ایران میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم معروف کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو ایک مرتبہ پھر سخت عدالتی فیصلے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں انہیں ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب نرگس محمدی پہلے ہی مختلف الزامات کے تحت قید کاٹ رہی ہیں ۔ دوسری جانب عالمی برادری ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق نرگس محمدی فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ 53 سالہ نرگس محمدی کو خواتین کے حقوق کے لیے 3 دہائیوں پر محیط جدوجہد کے تناظر میں یہ نئی سزا سنائی گئی ہے۔
فاؤنڈیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نرگس محمدی نے حال ہی میں ایک ہفتے پر مشتمل بھوک ہڑتال ختم کی تھی، جس کے فوراً بعد انہوں نے جیل سے اپنے وکیل کو فون پر آگاہ کیا کہ انہیں ہفتے کے روز مزید قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نرگس محمدی کو جن الزامات میں سزا سنائی گئی ہے ان میں اجتماع اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزام میں 6 سال قید جب کہ حکومت مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں ڈیڑھ سال قید شامل ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے انہیں ایرانی شہر خوسف میں 2 سالہ اندرونی جلاوطنی اور 2 سال کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا بھی دی ہے، جس سے ان کی آزادی مزید محدود ہو گئی ہے۔
نرگس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ سزا سنائے جانے سے قبل انہیں کئی ہفتوں تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور ان کا بیرونی دنیا سے مکمل رابطہ منقطع رہا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت نگرانی اور پابندیوں کے باوجود نرگس محمدی نے مختصر فون کال کے ذریعے اپنے وکیل کو اپنی صورت حال سے آگاہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ نرگس محمدی کو دسمبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے معروف وکیل خسرو علی کردی کی مشتبہ موت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکام پر تنقید کی تھی۔ ایرانی پراسیکیوٹرز کے مطابق انہوں نے مشہد میں ایک یادگاری تقریب کے دوران اشتعال انگیز بیانات دیے اور عوام کو نعرے بازی پر اکسایا، جسے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
نرگس محمدی اس وقت مشہد کی جیل میں قید ہیں اور انہیں 2023 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی وہ خواتین کے حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور ایران میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرنے کے سبب قید میں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نرگس محمدی کو ایران میں کے مطابق قید کی کی سزا گئی ہے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔