کراچی میں ٹریفک حادثات میں 6 افراد جاں بحق، ڈمپر سے 2 نوجوان مارے گئے، 1 شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا خونی حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، چند گھنٹوں میں ڈمپر کے دو مختلف حادثات میں 2 نوجوان جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپر ہائی وے پنجاب بس اڈے کے قریب خونی ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار 2 افراد کو روند کر زندگی سے محروم کر دیا جبکہ گلشن حدید میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہوا جو بعد میں دم توڑ گیا۔
دونوں حادثات میں ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگئے تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈمپروں کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سہراب گوٹھ میں ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ کامران اور 20 سالہ امان اللہ ک نام سے کی گئیں۔ ایس ایچ او سچل طفیل بھٹو نے بتایا کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈمپر کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد سپر ہائی پر قائم مقامی ہوٹل میں ملازمت کرتے تھے جو کہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے جبکہ ابتدائی طور پر دونوں افراد لیاقت آباد کے رہائشی بتائے جا رہے ہیں تاہم پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کرتے ہوئے فرار ڈرائیور کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔
گلشن حدید زیتون ریسٹورنٹ کے قریب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا جسے انتہائی تشویشناک حالت میں چھیپا کے رضا کاروں نے جناح اسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید زخمی موٹر سائیکل سوار کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 32 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے ڈمپر چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اور اس حوالے سے پولیس کی جانب سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیںکراچی: ٹریفک حادثات میں خاتون اور کمسن بچی سمیت 3 افراد جاں بحق
کراچی، ٹریفک حادثات میں دو افراد جاں بحق، نئے سال کے پہلے ماہ تعداد 80 ہوگئی
کراچی میں ہیوی ٹریفک سے گھر اجاڑ گئے،2 نوجوان جاں بحق
اس سے قبل پیرکی صبح سپر ہائی وے بقائی پل چشتیہ ہوٹل کے قریب ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال لیجائی گئی جہاں اس کی شناخت 42 سالہ رمیز اختر حسین کے نام سے کی گئی جو 6 گلشن معمار کا رہائشی اور ملیر کینٹ کے قریب قائم نجی بینک کا منیجر تھا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او گڈاپ سٹی سرفراز جتوئی نے بتایا کہ حادثہ نامعلوم گاڑی کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس میں موٹر سائیکل سوار سڑک پر گر گیا اور اسی دوران عقب سے آنے والی دوسری نامعلوم تیز رفتار گاڑی نے رمیز اختر کو کچل دیا۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد دونوں ڈرائیور موقع پر سے گاڑیوں سمیت فرار ہوگئے تاہم پولیس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اورعینی شاہدین سے مزید معلومات حاصل کر رہ ہے۔
کورنگی ویٹا چورنگی اٹک پمپ کے قریب ٹریفک حادثے میں بزرگ خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی لاش جناح اسپتال لیجائی گئی جہاں متوفیہ کی شناخت 70 سالہ عائشہ زوجہ سرفرار کے نام سے کی گئی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او کورنگی صنعتی ایریا ناصرمحمود نے بتایا کہ متوفیہ نشے کی عادی تھی اور سڑک کنارے فٹ پاتھ پر سو رہی تھی کہ نامعلوم تیز رفتار گاڑی خاتون پر چڑ گئی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جبکہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے گاڑی سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تاہم پولیس ڈرائیور کا سراغ لگانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
دریں اثنا سپرہائی وے احسن آباد پیٹرول پمپ کے قریب ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والے بزرگ شہری نے عباسی شہید اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی راہگیر تھا جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 65 سال کے قریب بتائی جاتی ہے تاہم پولیس مزید چھان بین کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سوار ڈرائیور موقع سے نے بتایا کہ کہ حادثے کا تاہم پولیس حادثات میں تیز رفتار کے قریب کر دیا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔