خواجہ آصف کی علیمہ خان اور بچوں کے بسنت منانے کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے علیمہ خان اور اُن کے بچوں کے بسنت منانے کی تعریف کردی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست کے ساتھ زندگی کے کئی رخ ہیں سب رخوں کے ساتھ جینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان اور ان کے بچوں کا بسنت منانا اچھی بات ہے کہ ان کی زندگیوں میں بھی کوئی تبدیلی آئی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کو جس طرح شکست ہوئی دوبارہ حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ یہ بڑی اچھی اور صحت مندانہ تبدیلی ہے، انہوں نے اگر انجوائے کیا ہے تو میرے ساتھ ان کو بھی مریم نواز کا مشکور ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مریم نواز مبارک باد کی مستحق ہیں، کروڑوں لوگوں نے بسنت کو انجوائے کیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے جو روایت ڈالی ہے، وہ دوسرے شہروں میں بھی جائے گی۔
خواجہ آصف نےیہ بھی کہا کہ لگتا ہے بسنت اب پورے پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر منایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف کہا کہ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔