بسنت پر 20 ارب روپے سے زاید کا کاروبار ہوا‘ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-01-22
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ بسنت کے موقع پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران صرف پتنگ اور ڈور کا کاروبار ہی تین ارب روپے سے زائد رہا جبکہ بانس، کاغذ، مزدوری اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی بھرپور روزگار حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانس فروش ہو یا پیپر فروش، مزدور ہو یا کاریگر، سب نے اس تہوار سے فائدہ اٹھایا۔آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کی بحالی سے نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ ملا بلکہ تین روزہ تہوار خیریت سے مکمل ہوا اور لاہور میں کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔ اسلام آباد میں پیش آنے والے سانحے پر ایسوسی ایشن نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جس کے باعث بسنت کی کئی تقریبات منعقد نہ ہو سکیں۔ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت کے ساتھ مل کر بسنت کے لیے ایس او پیز تیار کی گئیں، گڈے، پتنگ اور ڈور کے حوالے سے حکومت اور ایسوسی ایشن ایک پیج پر تھیں، جبکہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز نصب کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔