اپنے بیان میں علامہ علی حسنین نے کہا کہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر نے عوام الناس نے ایک بار پھر اسی عزم کو دوہرایا کہ قوم نے فارم 47 کے حکمرانوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی رہنماء و امام جمعہ علامہ علی حسنین حسینی نے 8 فروری کو ہونے والے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کامیابی پر عوام الناس، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ کھلا اعلان تھا کہ ہر طبقے نے فارم 47 کی حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔ الیکشن میں دھاندلی کرکے کرسی اور حکومت پر تو قبضہ کیا جا سکتا ہے، مگر پاکستانی عوام کے دلوں پر آج بھی حقیقی نمائندے راج کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے روز اول بھی فارم 47 کے پیراشوٹرز اور جعلی نمائندوں کو مسترد کیا تھا، آج بھی مسترد کرتے ہیں۔ جعلی حکمران خود بھی یہ بات جان چکے ہیں کہ عوام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گزشتہ روز کے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر نے عوام الناس نے ایک بار پھر اسی عزم کو دوہرایا کہ قوم نے فارم 47 کے حکمرانوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔

علامہ علی حسنین نے کہا کہ گزشتہ روز کے ہڑتال کی کامیابی میں سیاسی کارکنوں اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ جن پر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت وقت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں سے یہ طبقے بھی بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں کاروبار کے مواقع بند کرکے تاجروں، جبکہ عجیب و غریب پالیسیاں لاکر ٹرانسپورٹرز کو نان شبینہ کا محتاج بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت نے گزشتہ روز آمریت دور کی یاد تازہ کر دی۔ بزرگوں اور نہتے مظاہرین کے ساتھ پولیس کا غیر انسانی رویہ حکومتی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ڈھنڈے کے زور پر ہر طبقے کو خاموش کرے، تاہم تاریخ نے بار بار اس حکمت عملی کو شکست دیتے ہوئے جابر حاکموں کو شرمسار کیا ہے۔ فرعونیت اور آمریت کا نظام کبھی بھی نہیں چل سکتا ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور ٹرانسپورٹرز علامہ علی حسنین عوام الناس کہا کہ فارم 47

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان