ہڑتال کامیاب کرنے پر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے مشکور ہیں، علامہ علی حسنین
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں علامہ علی حسنین نے کہا کہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر نے عوام الناس نے ایک بار پھر اسی عزم کو دوہرایا کہ قوم نے فارم 47 کے حکمرانوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی رہنماء و امام جمعہ علامہ علی حسنین حسینی نے 8 فروری کو ہونے والے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کامیابی پر عوام الناس، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ کھلا اعلان تھا کہ ہر طبقے نے فارم 47 کی حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔ الیکشن میں دھاندلی کرکے کرسی اور حکومت پر تو قبضہ کیا جا سکتا ہے، مگر پاکستانی عوام کے دلوں پر آج بھی حقیقی نمائندے راج کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم نے روز اول بھی فارم 47 کے پیراشوٹرز اور جعلی نمائندوں کو مسترد کیا تھا، آج بھی مسترد کرتے ہیں۔ جعلی حکمران خود بھی یہ بات جان چکے ہیں کہ عوام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گزشتہ روز کے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر نے عوام الناس نے ایک بار پھر اسی عزم کو دوہرایا کہ قوم نے فارم 47 کے حکمرانوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔
علامہ علی حسنین نے کہا کہ گزشتہ روز کے ہڑتال کی کامیابی میں سیاسی کارکنوں اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ جن پر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت وقت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں سے یہ طبقے بھی بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں کاروبار کے مواقع بند کرکے تاجروں، جبکہ عجیب و غریب پالیسیاں لاکر ٹرانسپورٹرز کو نان شبینہ کا محتاج بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت نے گزشتہ روز آمریت دور کی یاد تازہ کر دی۔ بزرگوں اور نہتے مظاہرین کے ساتھ پولیس کا غیر انسانی رویہ حکومتی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ڈھنڈے کے زور پر ہر طبقے کو خاموش کرے، تاہم تاریخ نے بار بار اس حکمت عملی کو شکست دیتے ہوئے جابر حاکموں کو شرمسار کیا ہے۔ فرعونیت اور آمریت کا نظام کبھی بھی نہیں چل سکتا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور ٹرانسپورٹرز علامہ علی حسنین عوام الناس کہا کہ فارم 47
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔