data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی اصلاحات، انصاف تک موثر رسائی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مضبوط، شفاف اور عوام دوست عدالتی نظام پائیدار ترقی اور جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔ عدالت عظمیٰ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جہاں پاکستان کے نظام انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ چیف جسٹس سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے وفد کے ساتھ ملاقات کی، جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، یو این ویمن، یونیسف، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ی سی) اور یو این ایف پی اے کے ملکی نمائندگان بھی شریک تھے۔ ملاقات میں عدالتی اصلاحات کی ترجیحات، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری، گورننس کے فروغ اور قانون کی بالادستی پر عوامی اعتماد میں اضافے کے امور پر گفتگو کی گئی۔

اسلام آباد،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی عدالت عظمیٰ میں اقوام متحدہ کے وفد سے ملاقات کررہے ہیں

خبر ایجنسی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے چیف جسٹس

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت