شفاف عدالتی نظام پائیدار جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے‘ چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی اصلاحات، انصاف تک موثر رسائی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مضبوط، شفاف اور عوام دوست عدالتی نظام پائیدار ترقی اور جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔ عدالت عظمیٰ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جہاں پاکستان کے نظام انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ چیف جسٹس سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے وفد کے ساتھ ملاقات کی، جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، یو این ویمن، یونیسف، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ی سی) اور یو این ایف پی اے کے ملکی نمائندگان بھی شریک تھے۔ ملاقات میں عدالتی اصلاحات کی ترجیحات، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری، گورننس کے فروغ اور قانون کی بالادستی پر عوامی اعتماد میں اضافے کے امور پر گفتگو کی گئی۔
اسلام آباد،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی عدالت عظمیٰ میں اقوام متحدہ کے وفد سے ملاقات کررہے ہیں
خبر ایجنسی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے چیف جسٹس
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔