ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا بسنت نہ مناؤ‘ میں نے بھی گھر پر پتنگ اڑائی ‘ علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی ( نمائندہ جسارت)عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پتنگ اڑانے کااعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ بسنت نہ مناؤ، لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے‘ میرابیٹا بھی بہت جنونی اور شوقین ہے‘پی ٹی آئی کی8فروری کی ہڑتال بہت کامیاب تھی‘ جس کا دکان بند کرنی تھی اس نے کی اور جس کو نہیں کرنی تھی اس نے نہیں کی‘ سپریم کورٹ میں گزشتہ دو سال کے کیسز جمع ہوئے تھے، نمایاں پیش رفت یہ ہے کہ اپیلوں پر سماعت کیلئے تین رکنی بنچ بنا دیا گیا ہے۔ اے ٹی سی پنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ بسنت نہ مناؤ، لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے، میں نے بھی گھر پر پتنگ اڑائی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ لاہوریوں کا جنون دیکھا جہاں بچہ بچہ پتنگیں اڑا رہا تھا، میرا بیٹا 6 فروری کو اپنے بچوں کے ساتھ بسنت منانے گیا تھا۔علیمہ خان نے کہا کہ میرا بڑا بیٹا جنونی ہے وہ بسنت کا شوقین ہے، لاہوریوں کو بسنت سے روکنا بڑا مشکل ہے، یہ کسی پارٹی کی بسنت تو نہیں ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج بہت زبردست تھا، لوگوں نے جس طرح چپ کرکے ووٹ ڈالا تھا کل احتجاج بھی چپ کرکے کیا، پہلے یہ کہتے تھے گھر بیٹھو اب کہتے ہیں باہر نکلو۔ پاکستانیوں نے خاموشی سے احتجاج ریکارڈ کرایا۔علیمہ خان نے کہا کہ جنہوں نے کل دکانیں بند کرکے احتجاج کرنا تھا انہوں نے کیا جنہوں نے احتجاج نہیں کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا، کل کا احتجاج کامیاب تھا آپ جو مرضی کہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ دو سال کے کیسز جمع ہوئے تھے، نمایاں پیش رفت یہ ہے کہ اپیلوں پر سماعت کیلئے تین رکنی بنچ بنا دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ کو نہیں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔