Jasarat News:
2026-06-03@06:00:31 GMT

ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260210-03-5
کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان وہ توانائی، جوش اور صلاحیت رکھتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے ترقی کی راہ اختیار کی، اس کے پیچھے نوجوانوں کا کردار نمایاں رہا۔ نوجوان نہ صرف حال کے ذمے دار ہوتے ہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد بھی انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں علم، ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ اگر یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں تو ملکی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان سائنس، طب، انجینئرنگ، آئی ٹی، معیشت اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ ملکی ترقی میں نوجوانوں کا سب سے اہم کردار تعلیم کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف خود باعزت روزگار حاصل کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ایک باشعور نوجوان معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے اور ان کے حل کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے۔ ارسطو کے مطابق، ’’تعلیم ذہن کو نہیں بلکہ کردار کو مضبوط بناتی ہے‘‘۔ یہ قول آج کے نوجوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔

نوجوانوں کا کردار سماجی اصلاح میں بھی بہت اہم ہے۔ نوجوان اگر ایمانداری، نظم و ضبط، برداشت اور ذمے داری جیسی اقدار کو اپنائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ بدعنوانی، ناانصافی اور نفرت جیسے مسائل کا مقابلہ صرف وہی نوجوان کر سکتے ہیں جو کردار اور سوچ دونوں میں مضبوط ہوں۔ افلاطون نے کہا تھا کہ ’’ریاستوں کی تقدیر نوجوانوں کی تربیت سے جڑی ہوتی ہے‘‘، اور یہی وجہ ہے کہ باشعور نوجوان ہر معاشرے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی نوجوان کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہنر مند نوجوان صنعت، زراعت اور کاروبار کے شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر صرف نوکری کا انتظار کرنے کے بجائے خود روزگار کی طرف آئے تو ملک میں بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور معاشی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ مارکس اور دیگر معاشرتی مفکرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ نوجوان محنت اور تخلیقی سوچ کے ذریعے معاشی تبدیلی لا سکتے ہیں، اور یہی کسی ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔

نوجوانوں کا کردار صرف معیشت اور تعلیم تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی شعور اور جمہوری عمل میں بھی انتہائی اہم ہے۔ علامہ اقبالؔ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’نوجوانوں کے ہاتھ میں قوم کی تقدیر ہوتی ہے’’۔ اگر نوجوان ملکی مفاد کے لیے ووٹ کا صحیح استعمال کریں، انصاف پسند قیادت کا انتخاب کریں اور ذاتی مفاد سے بڑھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، تو ملک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کا کردار ملکی سلامتی اور یکجہتی میں بھی اہم ہے۔ باشعور نوجوان منفی پروپیگنڈے، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا مقابلہ دلیل، علم اور اتحاد کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ ایک متحد اور پرامن معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا، ’’نوجوان ہی وہ تبدیلی لا سکتے ہیں جو دنیا کو بہتر بنائے‘‘۔ یہی نظریہ آج کے نوجوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں جہاں اتحاد اور امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اگر نوجوان اپنی ذمے داریوں کو پہچان لیں، علم اور اخلاق کو اپنا ہتھیار بنائیں اور ملک کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔ نوجوان نہ صرف آج کا سرمایہ ہیں بلکہ کل کا مستقبل بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ملکی ترقی، سیاسی استحکام، اقتصادی ترقی، اور سماجی اصلاح یہ سب نوجوانوں کی سوچ، جوش، اخلاق اور عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ذمے دار نوجوان ہی پاکستان کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اعجاز احمد کٹو سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نوجوانوں کا کردار ملکی ترقی سکتے ہیں ہیں بلکہ سکتی ہے ترقی کی میں بھی کی ترقی

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟