ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260210-03-5
کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان وہ توانائی، جوش اور صلاحیت رکھتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے ترقی کی راہ اختیار کی، اس کے پیچھے نوجوانوں کا کردار نمایاں رہا۔ نوجوان نہ صرف حال کے ذمے دار ہوتے ہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد بھی انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں علم، ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ اگر یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں تو ملکی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان سائنس، طب، انجینئرنگ، آئی ٹی، معیشت اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ ملکی ترقی میں نوجوانوں کا سب سے اہم کردار تعلیم کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف خود باعزت روزگار حاصل کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ایک باشعور نوجوان معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے اور ان کے حل کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے۔ ارسطو کے مطابق، ’’تعلیم ذہن کو نہیں بلکہ کردار کو مضبوط بناتی ہے‘‘۔ یہ قول آج کے نوجوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے۔
نوجوانوں کا کردار سماجی اصلاح میں بھی بہت اہم ہے۔ نوجوان اگر ایمانداری، نظم و ضبط، برداشت اور ذمے داری جیسی اقدار کو اپنائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ بدعنوانی، ناانصافی اور نفرت جیسے مسائل کا مقابلہ صرف وہی نوجوان کر سکتے ہیں جو کردار اور سوچ دونوں میں مضبوط ہوں۔ افلاطون نے کہا تھا کہ ’’ریاستوں کی تقدیر نوجوانوں کی تربیت سے جڑی ہوتی ہے‘‘، اور یہی وجہ ہے کہ باشعور نوجوان ہر معاشرے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی نوجوان کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہنر مند نوجوان صنعت، زراعت اور کاروبار کے شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر صرف نوکری کا انتظار کرنے کے بجائے خود روزگار کی طرف آئے تو ملک میں بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور معاشی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ مارکس اور دیگر معاشرتی مفکرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ نوجوان محنت اور تخلیقی سوچ کے ذریعے معاشی تبدیلی لا سکتے ہیں، اور یہی کسی ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔
نوجوانوں کا کردار صرف معیشت اور تعلیم تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی شعور اور جمہوری عمل میں بھی انتہائی اہم ہے۔ علامہ اقبالؔ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’نوجوانوں کے ہاتھ میں قوم کی تقدیر ہوتی ہے’’۔ اگر نوجوان ملکی مفاد کے لیے ووٹ کا صحیح استعمال کریں، انصاف پسند قیادت کا انتخاب کریں اور ذاتی مفاد سے بڑھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، تو ملک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کا کردار ملکی سلامتی اور یکجہتی میں بھی اہم ہے۔ باشعور نوجوان منفی پروپیگنڈے، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا مقابلہ دلیل، علم اور اتحاد کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ ایک متحد اور پرامن معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا، ’’نوجوان ہی وہ تبدیلی لا سکتے ہیں جو دنیا کو بہتر بنائے‘‘۔ یہی نظریہ آج کے نوجوانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں جہاں اتحاد اور امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اگر نوجوان اپنی ذمے داریوں کو پہچان لیں، علم اور اخلاق کو اپنا ہتھیار بنائیں اور ملک کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔ نوجوان نہ صرف آج کا سرمایہ ہیں بلکہ کل کا مستقبل بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ملکی ترقی، سیاسی استحکام، اقتصادی ترقی، اور سماجی اصلاح یہ سب نوجوانوں کی سوچ، جوش، اخلاق اور عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ذمے دار نوجوان ہی پاکستان کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوجوانوں کا کردار ملکی ترقی سکتے ہیں ہیں بلکہ سکتی ہے ترقی کی میں بھی کی ترقی
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔